کلام محمود مع فرہنگ — Page 309
164 اس کی رعنائی میرے قلب حزیں سے پوچھٹے حور و غلماں کی خبر خلد بریں سے پوچھٹے انتخابات کے مزے عرش بریں سے پوچھنے سجدہ کی کیفیتیں میری جبیں سے پوچھنے نسخہ وصل خدا ہے بس مری دکان پر ہر جگہ پر دیکھ لیجے گا کہیں سے پوچھٹے کوچۂ دلبر کے رستہ سے ہے دنیا بے خیر پوچھنا ہو آپ نے گر تو ہمیں سے پوچھٹے آسمانی بادشاہت کی خبر احمد کو ہے کس کی ملکیت ہے قائم یہیں سے پوچھٹے ابتدائے عشق سے دل کھوچکا ہے تل ہوں بستر گفت اُس نگاہ شرکیں سے پوچھئے دوسروں کی خوبیاں اس کی نظر میں عیب ہیں تجھ کو اپنی بھی خبر ہے نکتہ یہیں سے پوچھٹے کی آسماں کی راز جوٹی عقل سے ممکن نہیں راز خانہ پوچھنا ہو تو میں سے پوچھئے فقر نے بخشا ہے لاکھوں کو شہنشاہی کا تاج کیا ہوا ہے سخریہ نان جویں سے پوچھٹے کس قدر تو بائیں توڑی ہیں یہ ہے دل کو خبر کس قدر پونچھنے میں آنسو اتیس سے پوچھئے کس قدر صدمے اُٹھائے ہیں ہمارے واسطے قلب پاک رحمةُ لِلعالمین سے پوچھئے (اکتوبر 1951ء - لاہور) 307 اخبار الفضل جلد 5 لاہور پاکستان 24 نومبر 1951ء