کلام محمود مع فرہنگ — Page 301
158 آنکھ گر مشتاق ہے جلوہ بھی تو بیتاب ہے دل دھڑکتا ہے مرا آنکھ اُن کی بھی پُر آب ہے سر میں ہیں افکار یا اک بادلوں کا ہے ہجوم دل مرا سینہ میں ہے یا قطرہ سیماب ہے ظلمتوں نے گھیر رکھا ہے مجھے پر غم نہیں دُور اُفق میں جگمگاتا چہرہ مہتاب ہے حق کی جانب سے ملا ہو جس کو تقویٰ کا لباس جسم پر اس کے اگر گاڑھا بھی ہو کمخواب ہے جسم ایماں سعی وکوشش سے ہی پاتا ہے نُمو آرزوئے بے عمل کچھ بھی نہیں اک خواب ہے عشق صادق میں ترا رونا ہے اک آب حیات بے غرض رونا تیرا اک بے پینہ سیلاب ہے اخبار الفضل جلد 5 لاہور پاکستان 4 اگست 1951 ء