کلام محمود مع فرہنگ — Page 295
152 نکل گئے جو ترے دل سے خار کیسے ہیں تو تجھ کو چھوڑ گئے وہ نگار کیسے ہیں نہ آرزو نے ترقی نہ صدمہ ذلت خدا بچائے یہ کیل و نہار کیسے ہیں کبھی سے خانہ خار کا کھلا ہے در جو چھکے بیٹھے ہیں وہ بادہ خوار کیسے ہیں نہ حُسن خلق ہے تجھ میں بین سیرت ہے تو ہی بتا کہ پیش وزگار کیسے ہیں خدا کی بات کوئی بے سبب نہیں ہوتی نہیں ہے ساقی تو ابر وبہار کیسے ہیں نہ غم سے غم نہ خوشی سے میری تجھے ہے خوشی خُدا کی ماریہ قرب و جوار کیسے ہیں نہ دل کو چین نہ سر پر ہے سایہ رحمت ستم ظریف ! یہ باغ و بہار کیسے ہیں نہ فضل کی کوئی کوشش نہ دید کی تدبیر خبر نہیں کہ وہ پھر بے قرار کیسے ہیں وہی ہے چال وہی راہ ہے وہی ہے روش ستم وہی ہیں تو پھر شرمسار کیسے ہیں وہ لالہ رخ ہی یہاں پر نظر نہیں آتا تو اس جہان کے یہ لالہ زار کیسے ہیں دہ حسرتیں ہیں جو پوری نہ ہو سکیں افسوس بتاؤں کیا میرے دل میں مزار کیسے ہیں مصیبتوں میں تعاون نہیں تو کچھ بھی نہیں جو غم شریک نہیں غم گسار کیسے ہیں اخبار الفضل جلد 5 لاہور پاکستان 23 مئی 1951 ء 293