کلام محمود مع فرہنگ — Page 294
151 جو دل پر زخم لگے ہیں مجھے دکھا تو سہی ہوا ہے حال تیرا کیا مجھے سُنا تو سہی شمار عشق ہیں کیسے کبھی تو چکھ کر دیکھ یہ پیج باغ میں اپنے کبھی لگا تو سہی لگاؤں سینہ سے دل میں اٹھاؤں میں تجھ کو نہ دور بھاگ یونہی میرے پاس آ تو سہی دہ منہ چھپائے ہوئے مجھ سے ہم کلام ہوئے وصال گو نہ ہوا خیر کچھ ہوا تو سہی فریب خوردہ الفت فریب خوردہ ہے مگر تو سامنے اس کو کبھی بلا تو سہی وہ آپ خود چلے آئیں گے تیری مجلس میں خودی کے نقش ذرا دل سے تو میٹا تو سہی برا جما کہ بھلا اپنی اپنی قسمت ہے ہمارے دل پر ترا نقش کچھ کھا تو سہی زمانہ دشمن جاں ہے نہ اس کی جانب پھر تو اس کو اپنی مدد کے لیے بلا تو سہی نظر نہ آئے وہ تجھ کو یہ کیسے ممکن ہے حجاب آنکھوں کے آگے سے تو ہٹا تو سہی نکلتے ہیں کہ نہیں رُوح میں پیکر پرواز تو اپنی جان کو اس شمع میں جلا تو سہی جو دشت و کوہ بھی رقصاں نہ ہوں مجھے کیو تو اس کی شہر سے ذرا اپنی مشر ملا تو سہی سرسے تو 292 اخبار الفضل جلد 5 لاہور پاکستان 10 مئی 1951 ء