کلام محمود مع فرہنگ — Page 292
150 چاند چمکا ہے گال ہیں ایسے تاج ہو جیسے بال ہیں ایسے تن پر کمخواب پیٹ میں حلوان جاں یہ اُن کی وبال ہیں ایسے جن کو عقبی کا فکر رہتا ہو ہیں مگر خال خال ہیں ایسے لوٹنے سے اُنھیں کہاں فرصت وہ پریشان حال ہیں ایسے لیڈر قوم بھی ہیں ڈاکو بھی اُن کے اندر کمال ہیں ایسے ئے کے پھندے میں جو پھنسا سو پھنسا اس کے مضبوط حال ہیں ایسے جل کے رہ جاتے ہیں تمام افکار دل کے اندر اُبال ہیں ایسے جو کہ شرمندہ جواب نہیں ان کے دل میں سوال ہیں ایسے اُن کو فُرصت ہی صُلح کی کب ہے؟ وقف جنگ و جدال ہیں ایسے ہ کریں بے وفائی ! اے تو بہ آپ کے ہی خیال ہیں ایسے قوم کے مال پھر خیانت سے کون چھوڑے یہ مال ہیں ایسے سجدہ بارگہ بھی بوجھل ہے کیا کریں وہ نڈھال ہیں ایسے گالیاں تکیہ کلام اُن کا یہ عدو خوش خصال ہیں ایسے 290