کلام محمود مع فرہنگ — Page 217
اُس کے نزدیک ہو کے دُور بھی تھا دل اُمیدوار چور بھی تھا نارِ فُرقت میں جل رہا تھا میں گوپس پردہ اک ظہور بھی تھا لوگ سب شادمان و خوش آئے اک میں تھا کہ سوگوار آیا دیکھئے کب وہ منہ دکھاتا ہے پر دہ چہرہ سے کب اُٹھاتا ہے کب میرے غم کو دور کرتا ہے پاس اپنے مجھے بلاتا ہے ہنس کے کہتا ہے دیکھ کر مجھ کو دیکھو وہ میرا دل فگار آیا میں یونہی اس کو آزماتا تھا پاک کرنے کو دل جلاتا تھا عشق کی آگ تیز کرنے کو منہ چھپاتا کبھی دکھاتا تھا میری خاطر اگر یہ تھا بے چین کب مجھے اس کے بن قرار آیا اخبار الفضل جلد 21-25 جولائی 1934 ء 215