کلام محمود مع فرہنگ — Page 203
86 راک عمر گزر گئی ہے روتے روتے دامان عمل کا داغ دھوتے دھوتے یاران وطن ! یہ خواب جنت کسی کام دوزخ میں پہنچ چکے ہو سوتے سوتے آتا ہے تو اب گند میں لطف آتا ہے نوبت یہ اپنی گئی ہے ہوتے ہوتے کیا کعبہ کو جاؤ گے تبھی تم جس وقت تھک جاؤ گے گشت کم ہوتے ہوتے چھانا کئے سب جہاں کو اُن کی خاطر جب دیکھا تو دیکھا ان کو سوتے سوتے دیکھا نا نگاہ یار پالی ہم نے فرقت میں حواس و ہوش کھوتے کھوتے 201 + 1928 أخبار الفضل جلد 16 - 6 جولائی