کلام محمود مع فرہنگ — Page 199
85 میں تمھیں جانے نہ دوں گا کیا مجبت جائے گی یوں کیا پڑا روؤں گا میں خوں یاد کر کے چشم کئے گوں میں تمھیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا خواہ تم کتنا ہی ڈانٹو خواہ تم کتنا ہی کوسو خواہ تم کتنا ہی چھڑ کو میں تمھیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا کیا ہوئی اُلفت ہماری کیا ہوئی چاہت تمہاری کھا چکا ہوں زخم کاری میں تمھیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا مجھ سے تم نفرت کرو گے سامنے میرے نہ ہو گے ساتھ میرا چھوڑ دو گے میں تمھیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا دل میں رکھوں گا چُھپا کر آنکھ کی پیشلی بن کر 197