کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 193

81 ستی بینینیم میری ناکام ہوئی جاتی ہے صبح آئی ہی نہیں شام ہوئی جاتی ہے دو لب سُرخ ہیں گویائی پر آمادہ پھر سخت ارزاں مئے گلفام ہوئی جاتی ہے لطف خُلُوتُ جو اُٹھانا ہو اُٹھا لو یارو دعوت پیر مغاں عام ہوئی جاتی ہے مضطرب ہو کے چلے آتے ہیں میری جانب موت ہی کو فصل کا پیغام ہوئی جاتی ہے ان کو اظہار محبت سے ہے نفرت محمود آہ میری یونہی بدنام ہوئی جاتی ہے عشق ہے جلوہ فگن فطرت وحشی پہ میری دیکھ لینا کہ ابھی رام ہوئی جاتی ہے جرات زُلف تو دیکھو کہ بروز روشن در پئے قتل کر بام ہوئی جاتی ہے خود کسری تیری گر اسلام ہوئی جاتی ہے اُن کی بخشش بھی تو انعام ہوئی جاتی ہے لذت عیشِ جہاں دیکھ کے بھولا مسلم دانہ سمجھا تھا جسے دام ہوئی جاتی ہے کیا سب ہے کہ تجھے دے کے دل اسے شید این میری جاں معرض السنام ہوئی جاتی ہے ہب ہے دے پھر بٹے جاتے ہیں ہر قسم کے دنیا سے فساد عقل پھر تابع الہام ہوئی جاتی ہے 191 از احمدی جنتری 1928 مطبوعہ دسمبر 1927 ء