کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 166

اسے متو! اب جستجو اُس کی ہے اُمید محال لے چکا ہے دل مرا تو دلر بائے قادیاں یا تو ہم پھرتے تھے ان میں یا ہوا یہ انقلاب پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے قادیاں خیال رہتا ہے ہمیشہ اس مقام پاک کا سوتے سوتے بھی یہ کہ اٹھتا ہوں ہائے قادیاں آہ کیسی خوش گھڑی ہو گی کہ بانیل مرام باندھیں گے رخت سفر کو ہم برائے قادیاں پہلی اینٹوں پر ہی رکھتے ہیں نئی اینٹیں ہمیش ہے تبھی چرخ چہارم پر بنائے قادیاں صبر کر اسے ناقۂ راہِ صدی ہمت نہ ہار دُور کر دے گی اندھیروں کو ضیائے قادیاں ایشیا و یورپ و امریکیه و افریقه سب دیکھ ڈالے پر کہاں وہ رنگ ہائے قادیاں 165