کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvii of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page xvii

196 197 201 202 204 206 210 211 212 216 217 219 220 221 222 223 225 84 = 85 89 89 86 87 88 89 90 ہے زمیں پر سر مرا لیکن وہی منجود ہے میں تمہیں جانے نہ دوں گا اک عمر گزر گئی ہے روتے روتے میں اپنے پیاروں کی نسبت ہرگز نہ کروں گا پسند کبھی خُدایا اے میرے پیارے خُدایا میرا دل ہو گیا خوشیوں سے معمور چھلک رہا ہے میرے غم کا آج پیمانہ 91 کو رحم اے رحیم ! مرے حال زار پر 92 آہ پھر موسم بہار آیا 23 93 94 95 96 97 98 99 اسے چاند تجھ میں نورِ خدا ہے چمک رہا دشمن کو ظلم کی پوچھی سے تم سینہ و دل بڑھانے دو پڑھ چکے اخرار بس اپنی کتاب زندگی میری نہیں زبان جو اس کی زباں نہیں موت اس کی کہ میں گر تمہیں منظور ہی نہیں ذرا دل تھام لو اپنا کہ اک دیوانہ آتا ہے کل دوپہر کو ہم جب تم سے ہوئے تھے رخصت 100 نہیں کوئی بھی تو مناسبت روشیخ و طرز ایاز میں VI