کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 118

کمتیں کافور ہو جائیں گی اک دن دیکھنا میں بھی اک نورانی چہرہ کے پرستاروں میں ہوں اہل دنیا کی نظر میں خواب غفلت میں ہوں میں اہل دل پر جانتے ہیں یہ کہ بیداروں میں ہوں ہوں تو دیوانہ مگر بہتوں سے عاقل تر ہوں میں ہوں تو بیماروں میں لیکن تیرے بیماروں میں ہوں مدتوں سے مر چکا ہوتا غم واندوہ سے گرنہ یہ معلوم ہوتا میں ترے پیاروں میں ہوں جانتا ہے کس پہ تیرا وار پڑتا ہے عدو تہ کیا تجھے معلوم ہے کس کے جگر پاروں میں ہوں؟ ساری دُنیا چھوڑ دے پر میں نہ چھوڑوں گا تجھے درد کہتا ہے کہ میں تیرے وفاداروں میں ہوں ہو رہا ہوں مست دید چشم مست یار میں لوگ یہ سمجھے ہوئے بیٹھے ہیں کے خواروں میں ہوں 118