کلام محمود مع فرہنگ — Page 90
39 آمین صاحبزادی امتہ الحفیظ نگم سلمها لله تعالی اللہ خُدا سے چاہیے ہے کو لگانی کہ سب فانی ہیں پر وہ غیر فانی وہی ہے راحت و آرام دل کا اُسی سے رُوح کو ہے شادمانی وہی ہے چارۀ آلام ظاهر دسی تکیں دو درد نهانی سپر بنتا ہے کہ ہر ناتواں کی وہی کرتا ہے اس کی پاسبانی بچاتا ہے ہر اک آفت سے ان کو ٹلاتا ہے بلائے ناگہانی جسے اُس پاک سے رشتہ نہیں ہے زمینی ہے ، نہیں وہ آسمانی اسی کو پا کے سب کچھ ہم نے پایا کھلا ہے ہم پر یہ راز نهانی خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَوْفَى الْأَمَانِي ہمارے گھر میں اس نے بھر دیا اور ہر اک ظلمت کو ہم سے کر دیا دور ملایا خاک میں سب دشمنوں کو کیا ہر مرحلہ میں ہم کو منصور حقیقت کھول دی اُن پر ہماری مگر تاریکی دل سے ہیں مجبور 90 90