کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال

by Other Authors

Page 61 of 89

کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 61

41 پھر انہوں نے حکومت پاکستان کے خلاف شورش بر پا کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کر دیا ہے عزیزوں زلیخاؤں نے کر کے سازش، رکھا صرف عصمت پہ جن بوسفوں کی وہ یوسف جو زنداں میں بھڑتے رہے ہیں اب ان کے لئے تخت تمکیں بچھا دو یہ ترتیب الٹی ہے اس کو الٹ دو، یہ تنظیم باطل ہے اس کو بدل دو جو نیچے دیے ہیں انہیں لا کے اُوپر ، جو اوپر لدے تھے اب انکو گرادو یہ مالی، یہ گل چیں یہ صیاد کیا ہیں، تمہاری یہ اپنی ہی کٹھ پنڈیاں ہیں انہیں بر طرف کر کے نظم حمین سے پرانے چمن میں نئے گل کھلا دو یہ ثبت ہیں تو بہت ہی ؟ خدا تو نہیں ہیں؟ در دان سے کیوں خود ہی انکو گھڑا تھا انہیں توڑ دو پھوڑ دو چور کرد د پڑھو ان کو استھان پر سے گرا دو ر قاصد انتخابات نمبر صفحه را ۲۸ اگست ۱۱۹) حضرات ! یہ جماعت اسلامی کے مشہور راہنما جناب نعیم صدیقی کی ایک لمبی نظم کے چند شعر ہیں جو اپنی تفسیر آپ ہیں۔جناب نعیم نے نظم کے علاوہ شریں بھی کھل کر ان خیالات کا اظہار فرمایا۔اور واضح لفظوں میں کہا۔انقلاب قیادت کے داعی ہونے کی حیثیت سے جماعت کی دینی دارایی ی بھی ہے کہ وہ فاسد قیادت کو صالح قیادت سے بدلے۔وہ اپنے لئے کسی طرح اس بات کو جائز نہیں سمجھتی کہ زندگی کے سارے معاملات فاسقین کے ہاتھوں میں رہیں اور وہ صالحین کو اپنے ساتھ جمع کر کے ایک گوشہ خمول میں پڑی رہے۔رسالہ ترجمان القرآن جون له م