کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال

by Other Authors

Page 73 of 89

کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 73

سرمائی اشاعت (شادی میں جماعت اسلامی پاکستان کے متعلق ایک طویل تحقیقی مقالیکھا جو انکے دو سالہ ذاتی مطالعہ و مشاہدہ کا نتیجہ تھا۔مسٹرایٹ نے قادیانی مسئلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:۔" اس پمفلٹ میں خواہ علمی لحاظ سے کیسے ہی عمدہ دلائل کیوں نہ دیئے گئے ہوں۔بہر حال آیا کشیدگی کی موجودگی میں اسکی اشاعت یقینا کھچاؤ میں اضافہ کا باعث ہوئی۔احمدی قبل ازیں ایک مدت سے جماعت اسلامی کی مخالفت میں بہت سرگرم رہتے تھے بین ممکن ہے کہ مولانا مودودی اس مخالفت سے سرگویاں ہو چکے ہوں اور مولانا موصوف نے مسلم سوسائٹی سے ان لوگوں کے اخراج کا موقع قیمت جان کر یہ پمفلٹ لکھا ہوا اور انہیں اس بات کا خیال نہ آیا ہو کہ پمفلٹ بھی کشیدگی میں اضافر ی کر گیا۔مولانا مودودی کو اس انت معلوم ہونا چاہیئے تھا کہ وہ در حقیقت ایک بہت بڑے انتشگیر بم سے کھیل رہے میں ان کا یہ عدم حساس در حقیقت ایک زیر دست غیر ذمہ داری کے مترادف ہے۔(ترجمہ) رنجواله تحریک اسلامی نمبر مش۳۶ چراغ راه) 4۔قادیانی مسئلہ اور اس طرز کے دوسرے لٹریچر کا جماعت احمدیہ پر کیا اثر پڑا اس کا جواب شیخ محمد اکرام صاحب ایم اے کے مندرجہ ذیل الفاظ میں جھولی مل سکتا ہے۔لکھتے ہیں؟۔د قرآن نے مسلمانوں بلکہ مسلمانوں اوردوسری قوموں کے درمیان فونیت پانے کا طریقہ یہ بتایا تھا کہ نیک کاموں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں۔۔۔انسانی زندگی کا یہ اٹل قانون دور حاضر کے بعض مناظر میں نے پوری طرح نہیں سمجھا۔حبیب جوئی مخالفت اور تشدد سے دوسرے فرقوں اور جا خون کی ترقی سند نہیں ہو سکتی۔جو فرد اپنی جماعت کی ترقی چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ نیک کاموں میں دوسروں سے بڑھ جائے ہما ریہ رگوں