اچھی کہانیاں — Page 26
74 اس نے دل میں سوچا نہ قریب پہنچا تو جو منظر دیکھا وہ زیادہ خوش کن نہ تھا۔رحمن نے ہاتھوں میں غلیل پکڑی ہوئی تھی اور ایک ننھی منی چڑیا زمین پر تڑپ رہی تھی دیکھا تم نے میرا نشانہ کتنا پکا ہے رحمن غزالی کو دیکھ کر مسکرایا۔پہلے ہی وار میں ڈھیر ہوگئی وہ فخر سے بولا۔ثبت بُرا کیا تم نے - غزالی افسردگی سے بولا اور زمین پر بیٹھ کر چڑیا کو دیکھنے لگا۔" ارے! یہ تو زندہ ہے لگتا ہے زیادہ پچوٹ نہیں آئی، شاید یہ بیچ جائے جاؤ ذرا بھاگ کر پانی تو لاؤ غزالی خوشی سے بولا۔" لیکن۔۔لیکن ولیکن کچھ نہیں بھاگ کر پانی لاؤ رحمن پانی لینے چلا گیا۔دونوں نے مکر پڑیا کی چونچ کھولی اور پانی کے قطرے ٹپکائے۔کچھ دیر میں چڑیا کی جان میں جان آئی اور وہ ٹھیک ہوگئی غزالی اس کو قطرہ قطرہ پانی پلاتا رہا " کتنے افسوس کی بات ہے یہ خوش رنگ پرندے ہمارا دل بہلاتے ہیں۔درختوں پر بیٹھ کر چہچہاتے ہیں اور تم نے ان کو اپنا نشانہ بنایا معصوم بے زبان پرندوں کو ستانا بہت بڑی بات ہے غزالی نے سمجھاتے ہوئے کہا۔اس بیچاری نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟ لیکن میں تو نشانہ بازی کی مشق کر رہا تھا۔رحمن نے صفائی پیش کی۔بھٹی اتنے نشانہ باز ہو تو جنگل میں جا کر بڑے جانوروں کو شکار بناؤ۔ان معصوم پرندوں پر کیوں ظلم کرتے ہو ؟ اتنی دیر میں چڑیا چوں چوں کرتی "