کافر کون؟ — Page 515
515 اپریل 1987 میں خدمت دین کے کئے اپنے بچے وقف کرنے کی تحریک کا آغاز ہوا جسے وقف نو کا نام دیا گیا اس میں اب تک 20 ہزار سے زائد بچے وقف کئے جاچکے ہیں۔امسال 29799 بیعتیں ہوئیں۔جلسہ سلانہ uk اس سے قبل اسلام آباد کے وسیع علاقے میں منعقد کیا جاتا تھا مگر اب وہ بھی تنگ پڑ گیا ہے اب اگلے سال کے لئے 208 ایکڑ جگہہ خریدی گئی۔1993 ء تا 2005 ء کے سال تک 16 کروڑ 62 لاکھ 82 ہزار 7 سو 17 نفوس جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔امسال uk جلسہ پر 25000 سے زائد ا حباب شامل ہوئے۔”میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں“ سوا صدی پر پھیلی یہ جنگ اپنے عواقب اور ثمرات کے ساتھ دنیا کے نقشے پر ایک مضبوط تاریخی حقیقت بن چکی ہے۔جماعت احمدیہ کے حق میں نہ صرف خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے موسلا دھار بارش کی طرح نظر آرہے ہیں بلکہ 1۔اس کے نفوس میں دنیا کے ہر کونے سے متقی لوگوں کے گروہ در گروہ قافلے جوق در جوق شامل ہورہے ہیں۔ید وہ پوری دنیا میں اشاعت قرآن اور اشاعت اسلام کے واحد سفیر بن چکے ہیں۔ید کسی باطل مذہب کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی موجودگی میں بانی اسلام پر اعتراض کی جرأت مفقود ہو چکی ہے۔ا کسر صلیب کا تاریخی کارنامہ احمدیت کے ہاتھوں انتہائی کامیابی سے طے پا چکا ہے۔مالی جانی اور وقت کی قربانی میں احمدی فدائیوں کی قربانی دشمنوں کو بھی متفق ہے۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے جماعت احمدیہ کے فدائیاں کے گروہ مشرق سے مغرب تک ہر لمحہ زمین کو اسلام کے لیے فتح کر رہے ہیں۔جماعت کی حیرت انگیز ترقیوں اور خدمت دین کے مقابلے پر صرف احمدیوں کی مساجد کو تالے لگوانے۔احمدیوں کا تعاقب کرنے کے نعرے۔احمدیوں کو عدالتوں میں جھوٹے مقدمات میں پھنسوانے کے کارنامے علماء کے ہاتھ میں نظر آتے ہیں جس سے نہ صرف پڑھا لکھا طبقہ نفرت کرتا بلکہ علماء کے اس فعل کو سستی شہرت اور روٹی پانی کا ذریعہ سمجھنے لگ گیا ہے نو جوان طبقہ علماء کے پاس پھٹکنے کے لیے بھی تیار نہیں جس سے علماء پریشان حال نظر آتے ہیں۔