کافر کون؟ — Page 469
469 ترجمه اے قدیر و خالق ارض و سما اے رحیم و مهربان و رہنما اے کہ میداری تو برد لها نظر اے کہ تو نیست چیزے مستتر گر تو می بینی مراز پرفسق و شر گر تو دیداستی کہ ہستم بد گہر پاره پاره کن من بدکار را شاد کن این زمرہ اغیار را بردل شان ابر رحمت با بیار ہر مراد شاں بفضل خود برآر آتش افشاں بردور دیور من ههنم باش و تبه کن کار من اے قدیر! اس زمین و آسماں کے پیدا کرنے والے خدا! اے رحیم اور مہربان اور رہنما آقا! اے خدا ! کہ تو دلوں کی پاتال تک خبر رکھتا ہے اور اے وہ ذات کہ جس سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔اگر تو مجھے فسق وشر سے پر دیکھتا ہے اور تو مجھے اس حال میں دیکھتا ہے کہ میں کوئی بد گہر ہوں۔اگر تو مجھے بدکار سمجھتا ہے تو مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور اس کام سے میرے مخالفین کو خوش کر دے۔اور اگر ” میرے مخالفین میرے مقابل حق پر ہیں تو ان کے دلوں پر برابر رحمت برسا اور ان کی ہر مراد اپنے فضل سے خود پوری فرما۔میرے درود یوار پر آگ برسادے اور میرا دشمن ہو جا اور میرا کاروبار تباہ و برباد کر کے رکھ دے۔قرآن کریم ماموریت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی ہلاکت کی خبر دیتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بار بار یوں انذار کرتا ہے۔حمد موسیٰ نے ان سے کہا کہ اللہ پر جھوٹا افتراء نہ کرو ورنہ وہ تم کو سخت عذاب سے برباد کر دے گا۔(طه رکوع ۳) اگر جھوٹا ہے تو اس پر جھوٹ کا وبال آئے گا۔(المومن رکوع ۴) مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کا شمار ان علماء میں ہوتا ہے جو مرزا صاحب کے ہم عصر بھی تھے اور ان کے خلاف سرگرم بھی تھے اور مرزا صاحب کی مخالفت کے باعث آج کے علماء کے ہیرو بھی۔اپنی تفسیر ثنائی کے مقدمہ صفحہ 17 پر لکھتے ہیں۔نظام عالم میں جہاں اور قوانین خداوندی ہیں یہ بھی ہے کہ کاذب مدعی نبوت کی ترقی نہیں ہوا کرتی بلکہ وہ جان