کافر کون؟

by Other Authors

Page 467 of 524

کافر کون؟ — Page 467

467 تم یہ سمجھتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دیتا رہونگا۔اگر ان پر اپنا قدم بھی رکھ دوں تو ان کی زندگی کو کچل کر رکھ دوں گا۔مگر میں تو انہیں ڈر جانے اور زندہ رہنے کا موقع دیتا ہوں۔“ یوں یاوہ گوئی کرتا ہوا جان الیگزنڈرڈوئی اس شخص کے مقابل پر آ گیا جو مثیل مسیح اور امام مہدی کے دعوی کے ساتھ دنیا کومخاطب کر رہا تھا۔پیغمبروں کی یہ جنگ اپنے عروج پر پہنچ کرکس انجام سے دو چار ہوئی ؟ عیسائی پیغمبر جیتا یا مثیل مسیح محمدی سالی ایام ؟ دوستو! میرے لیے اس کہانی کے انجام کا مطالعہ اس حوالے سے بھی دلچسپ تھا کہ عیسائی پیغمبر تو عیسائی دنیا کے نمائندے کے طور پر دنیا میں موجود تھا جبکہ مسلمان نمائندہ یعنی محمدی مسیح کو امت مسلمہ اپنا امام یا نمائنده تو در کنار مسلمان بھی ماننے کے لیے تیار نہیں تھی پھر خدائی نصرت کس کے حصہ میں آئی آئیے اخبار رپورٹ ملاحظہ کرتے ہیں۔اور یہی عرفان میری 48 ویں مشکل بن گئی۔پیغمبروں کی جنگ“ یا پیغمبروں سے جنگ مشکل نمبر 48 امریکن اخبار The Truth Seeker 15 جون 1907ء کے پرچہ کے ایڈیٹورل میں زیر عنوان پیغمبروں کی جنگ لکھا: ڈوئی ( حضرت ) محمد صلای ایام کو نعوذ باللہ ) مفتریوں کا بادشاہ سمجھتا تھا اُس نے نہ صرف یہ پیشگوئی کی تھی کہ اسلام صحون کے ذریعہ تباہ کر دیا جائے گا۔بلکہ وہ ہر روز یہ دعا بھی کیا کرتا تھا کہ ہلال (اسلامی قومی نشان ) جلد از جلد نابود ہو جائے۔جب اسکی خبر ہندوستانی مسیح کو پہنچی تو اس نے ایلیائے ثانی کو للکارا کہ وہ مقابلہ کو نکلے اور دعا کریں کہ جو ہم دونوں میں جھوٹا ہو وہ بچے کی زندگی میں مرجائے قادیانی صاحب نے پیشگوئی کی کہ اگر ڈوئی نے اس چیلنج کو قبول کر لیا تو وہ میری آنکھوں کے سامنے بڑے دکھ اور ذلت کے ساتھ اس دنیا سے کوچ کر جائے گا اور اگر اس نے اس چیلنج کو قبول نہ کیا تو تب اس کا اختتام صرف کچھ توقف اختیار کر جائیگا۔موت اس کو پھر بھی جلد پالے گی اور اس کے صیحون پر بھی تباہی آجائے گی۔یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی کہ میحون تباہ ہو جائے۔اور ڈوئی ( حضرت ) احمد ( علیہ السلام) کی زندگی میں مرجائے۔مسیح موعود کے لیے یہ ایک خطرے کا اقدام تھا کہ وہ لمبی زندگی کے امتحان میں اس ایلیائے ثانی کو بلائیں کیونکہ دونوں میں سے چیلنج کرنے والا کم و بیش 15 سال زیادہ عمر رسیدہ تھا اور ایک ایسے ملک میں جو پلیگ اور متعصب مذہبی دیوانوں کا گھر ہو حالات اس کے مخالف تھے۔مگر