کافر کون؟

by Other Authors

Page 449 of 524

کافر کون؟ — Page 449

449 16 مارچ 1928ء کو بھدرک (اڑیسہ) میں ایک احمدی شیخ شیر محمد کی بیٹی فوت ہوگئیں دفن کے وقت غیر احمدی بھاری جتھہ لیکر پہنچ گئے اور مارنے پیٹنے لگے آخر انہوں نے لاش گھر لے آئے اور صحن میں دفن کی۔$1936 (الفضل 27 مارچ 1928 ء ) قادیانی بچے کی لاش قبرستان میں دفن کرنے سے روک کر خوشی کی لہر اسلام زندہ باد کے نعرے۔(روز نامہ الہلال کی رپورٹ ) 12مارچ 1936ء کو بمبئی کے ایک احمدی دوست کا خوردسال بچہ فوت ہو گیا جب اُسے دفن کرنے کے لیے قبرستان لے گئے تو مخالفین نے جھگڑا شروع کر دیا کہ قبرستان سنی مسلمانوں کا ہے۔قادیا نیوں کا نہیں کوئی قادیانی یہاں دفن نہیں ہوسکتا۔کیونکہ قادیانی کافر ہیں پولیس کے ذمہ دار حکام نے جھگڑا بڑھتے دیکھا تو انہوں نے بمبئی میونسپلٹی کے توسط سے ایک الگ قطعہ زمین میں اُسے دفن کرا دیا۔مگرمیت کے دفن کرنے کے لیے جو جگہ دی گئی وہ شہر سے بہت دور اور اچھوت کا مرگھٹ ہے۔روزنامہ الہلال بمبئی اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ جب مسلمانوں نے یہ خبر سنی کہ احمدی میت اس قبرستان میں دفن نہیں کی جائے گی تو اس اطلاع کے ملتے ہی مسلمانوں نے اسلام زندہ باد کے نعرے لگائے۔ہر شخص مسرت سے شاداں نظر آتا تھا۔وغیرہ وغیرہ الهلال بمبئی 14 مارچ 1936 ء ) یہ تو وہ چند خدمات کے مظاہرے ہیں جو انگریزی سرکار جیسی عدل پرور حکومت کے دور میں بجالائے گئے۔پاکستان بننے کے بعد ان میں کتنی ترقی کی گئی اس کا نظارہ کرنے کے لیے دیکھئے تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ یقینا ایسے ایسے مناظر نظر آئیں گے کہ بس کتے لاشیں بھنبھوڑتے ہی نظر آئیں گے۔$1953 1953 ء کا سال وطن عزیز پاکستان کی تاریخ میں اس حوالے سے سدا یا در کھا جائے گا کہ اس سال قادیانیوں کو مسلمان بنانے کے لیے شمشیر کا سہارا لیا گیا۔سڑکیں خون سے رنگین اور عزتیں تار تار ہوگئیں۔مال و املاک لوٹے گئے اور آگ کے الاؤ روشن کر دیئے گئے۔منفرد واقعہ تھا اور منفرد انداز تھا اس لیے حکومت پنجاب نے اسے ضبط تحریر میں لانا بھی عین فرض منصبی گردانا۔اعلیٰ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کا خلاصہ جناب کوثر جمال صاحب نے اپنی تصنیف ”مذہب کا سرطان میں یوں درج فرمائی ہے۔