کافر کون؟

by Other Authors

Page 437 of 524

کافر کون؟ — Page 437

437 دوستو! بات کوئی زیادہ پرانی نہیں ہے۔یہ 28 اکتوبر 1988ء کی سہ پہر تھی جب مکرم عبد القدیر شاہد صاحب مبلغ سلسلہ جماعت احمدیہ سمیت تین احمدیوں کے خلاف شرق پور تھانہ میں ایک F۔IR زیر دفعہ 298C درج ہوئی۔جرم کس قدر سنگین ہوگا کہ قانون نے حرکت میں آتے ذرہ دیر نہ لگائی اور اس قدر سرعت سے حرکت میں آیا کہ رات کے گیارہ بجنے سے پہلے پہلے تمام ملزمان کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جا چکا تھا۔یہ تینوں ملزمان سالوں سال جیل کی کال کوٹھریوں اور عدالتوں کی روشوں میں سے دھکے کھاتے ہوئے 1996ء کے سال میں، ایک دفعہ پھر اکتوبر کے مہینے میں سے 26 اکتوبر کی دو پہر سے گزر رہے تھے کہ اچانک اسلام آباد پولیس نے ایک سکہ بند مسلمان جناب مکرم سعد خاں صاحب فرزند ارجمند محترمہ صبیحہ ضمیر صاحبہ وایڈ مرل ضمیر صاحب و داماد گرامی جناب ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب آف اٹامک انرجی ، مالک فرا بلز انٹر نیشنل اسکول واقع ایف سیون ٹو اسلام آباد کے خلاف بھی زیر دفعہ 295، 2954 مقدمہ درج کر مارا۔یادر ہے یہ وہی سکول ہے جس میں اس وقت پینظر بھٹو صاحبہ کے بچے جناب بلاول زرداری بھٹو اور آصفہ سمیت ملک کی اہم ترین مقتدر شخصیات کے بچے زیر تعلیم تھے۔یعنی مختصراً یہ کہ احمدی ملزمان ، تین سادہ سے غریب لوگ۔ہو سکتا ہے ان میں سے بعض کو شرق پور کے محلے کے لوگ بھی پوری طرح نہ جانتے ہوں۔ایک سلسلہ احمدیہ کا مبلغ۔نماز پڑھانے اور اللہ رسول کے احکام کی اشاعت کے لیئے اپنی پوری زندگی وقف کرنے والا اور اسی کل سرمایہ حیات کا مالک۔دوسری طرف جناب مکرم سعد خان صاحب ایک ایڈ مرل کا بیٹا ، طاقتوروں کا نواسہ، جناب ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کا داماد اور خود ملک کے چند بڑے مہنگے اور معروف سکول اور کالجوں میں سے ایک سکول یعنی فرا بلز انٹرنیشنل اسکول واقع ایف سیون ٹو اسلام آباد کا مالک۔آگے چلیے مقدمہ درج کرتے ہوئے مجبوری یا سرعت کی نوعیت 1۔28 اکتوبر 1988 ء کی دو پہر، شرق پور تھانہ میں ایک مولوی صاحب نے احمدی ”ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی۔جو فوری قبول کرتے ہوئے اسی وقت نہ صرف زیر دفعه F۔IR 298 | کاٹ دی گئی بلکہ رات ڈھلنے سے پہلے پہلے ملزمان کو سلاخوں کے پیچھے بھی پہنچا دیا گیا۔یہاں سے ان غریب شرفاء کے وارثین ضمانت کی بھاگ دوڑ کے لیئے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔سالوں پر سال گزرتے رہے۔مجسٹریٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک یہ بھاگ دوڑ جاری رہی۔سپریم کورٹ نے کیس کی سنگینی“ کے مدنظر ضمانت دیئے بغیر کیس واپس بھیج دیا۔2۔بعد تفتیش، 1989 میں پولیس نے مجسٹریٹ کی عدالت میں مقدمہ برائے سماعت داخل کیا۔3 سال