کافر کون؟

by Other Authors

Page 312 of 524

کافر کون؟ — Page 312

312 حضرت منگو با بادر بار واقع کراچی میں مگر مچھوں کو مقدس سمجھ کر خوراک ڈالی جاتی ہے۔لٹن شاہ کے دربار پر عضو انسانی کی پرستش جاری۔(صفحہ 48) (صفحه 51) (صفحه 60) چھتن شاہ کے دربار پر ان کی مادر زاد نگی تصویر کو مقدس سمجھ کر بوسے دیئے جاتے ہیں۔(صفحه 80) اندرون سندھ ملکانی شہر حضرت لکڑ شاہ کے دربار پر لکڑ چڑھائے جاتے ہیں آپ مادر زاد ننگے رہتے تھے۔(صفحہ 89) ناشر ادارہ مطبوعات مجلہ الدعوۃ پاکستان اشاعت اول نومبر 1998 ء ) بریلویوں کی تصویر دیوبندی حضرات کی نظر میں شورش کا شمیری صاحب جو سکہ بند دیوبندی تھے نے بریلوی بھائیوں اور ان کے اکابرین کو سامنے رکھ کر کا فرسا ز ملا‘ میں یہ منظر کشی کی ہے۔” جو شخص اکابر دیوبند کے خلاف کفر کا فتویٰ صادر کرتا ہے وہ نہ صرف یہ کہ شقی القلب ہے۔بد بخت ہے۔بد زبان ہے۔ذلیل ہے۔فروتر ہے بلکہ ہم تو یہاں تک کہنے کو تیار ہیں کہ وہ دھوپ چھاؤں کی اولاد ہے“۔سرورق کا فرسا ز ملا) رسالہ کے صفحہ 7 پر شورش کا شمیری کے ہفت روزہ چٹان 1962ء کے مقالہ افتتاحیہ کا یہ اقتباس درج ہے: ان کا فر گروں سے ہماری درخواست ہے کہ اپنی زبانوں کو بند رکھیں ورنہ ایسا نہ ہو کہ ان کا پوسٹمارٹم کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔ہمیں اس قسم کے فیض درجات حامی سنت۔ماحی بدعت۔شیخ الحدیث اور ابوالفضل کہلانے والے پٹواریوں کی ضرورت نہیں۔یہ فتنہ پرداز ہیں اور فتنہ رسول اللہ کے ارشاد کے مطابق قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے“۔اسی زمانہ میں دیو بندیوں کا شائع کردہ دو ورقہ بعنوان "رضا خانی فتنہ پردازوں کا سیاہ جھوٹ بھی فی سبیل اللہ فساد کا مظہر بنا رہا اس میں مدیر چٹان بریلوی بھائیوں کو بھڑوے۔دیوانوں کی اولاد بلکہ رب ذوالجلال کی قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ یہ لوگ تو ہمارے اکابرین (یعنی دیوبندی) کی بیت الخلاء کی اینٹ سے بھی کمتر درجہ کے لوگ ہیں۔( بحوالہ مذہب کا سرطان مصنفہ کوثر جمال صفحہ 82-83 ممتاز صحافی و عالم دین جناب مولا نا ظفر علی خاں بریلویوں کی یوں تصویر کشی فرماتے ہیں :