کافر کون؟

by Other Authors

Page 253 of 524

کافر کون؟ — Page 253

253 نشان ظاہر کیا ہے اور اس وقت ظاہر کیا ہے جبکہ مولویوں نے میرا نام دجال اور کذاب اور کافر بلکہ اکفر رکھا تھا۔غرض میں خانہ کعبہ میں کھڑا ہو کر قسم کھا سکتا ہوں کہ یہ نشان میری تصدیق کے لیے ہے نہ کسی ایسے شخص کی تصدیق کے لیے جس کی ابھی تکذیب نہیں ہوئی۔لیکن آج کے بعد میں یہ حدیث نہیں مانتا (تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد 17 صفحه 143 مطبوعہ لندن 1984 یہ تو حدیث ہی نہیں بلکہ ایک جعلی روایت ہے بلکہ کوئی گرا پڑا قول ہے۔دشمنان مرزا صاحب کا اعلان۔۔۔۔علامہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود صاحب مبلغ ختم نبوت ڈاکٹر علامہ صاحب ارشاد فرماتے ہیں : ایک جعلی روایت کو امام باقر کے نام سے پیش کر کے حضور ما این پیام کی طرف منسوب کرنا کسی صاحب علم اور خدا تعالیٰ کا ڈرر کھنے والے شخص کا کام نہیں ہوسکتا۔مرزا غلام احمد قادیانی کے دجل و فریب کے لیے اگر ہم کوئی بھی اور دلیل نہ دیں صرف اس کے اس روایت سے استدلال کرنے کو ہی لوگوں کے سامنے لا دیں تو یہ قادیانیت کے تابوت میں آخری میخ ثابت ہو سکتی ہے۔(رساله خسوف و کسوف صفحه 11 ناشر اداره مرکز دعوت وارشاد چنیوٹ پاکستان ) کتنی بے شرمی اور بے حیائی کی بات ہے قادیانی اسے حدیث کہتے ہیں۔مولوی منظور احمد چنیوٹی صاحب۔۔۔۔۔۔مولوی صاحب اپنے رسالہ خسوف و کسوف کے دیباچہ میں مختلف احمدی رسائل کا ذکر کر کے ارشاد فرماتے ہیں۔ہر (احمدی ناقل ) مضمون نگار نے بڑی بے شرمی اور بے حیائی سے حضرت امام محمد باقر کے اس قول کو حدیث رسول بنا کر پیش کیا ہے۔انصار اللہ رسالہ کے نمبر میں 40 سے زائد مرتبہ اس قول کو حضور اکرم صلی ال ایتم کی طرف غلط منسوب کر کے حدیث رسول صلی یا پیام ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے یہ قادیانی اور اس کی امت کا صریح جھوٹ اور 66 زبردست دھوکہ ہے کہ امام محمد باقر کے قول کو حضور کی حدیث ظاہر کیا اور اس سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔(خسوف و کسوف صفحه (2) یہ امام محمد باقر کا قول بھی نہیں بلکہ کوئی گرا پڑا قول اور سند کے اعتبار سے ناقابل اعتبار ہے۔۔۔فاتح ربوہ مولانا چنیوٹی کا اگلا اعلان ”مرزا قادیانی کی عادت ہے کہ اگر کوئی گرا پڑا قول خواہ وہ موضوع اور غلط ہی کیوں نہ ہوا گر کچھ اس کے مفید مطلب ہے تو اس پر ایک عظیم عمارت کھڑی کر دے گا۔“ اور مزید فرمایا: