کافر کون؟

by Other Authors

Page 240 of 524

کافر کون؟ — Page 240

240 اس قوم کے لیے سر کھپاتا رہا۔گیارہ کروڑ کی آبادی میں سے اس وقت 5 ہزار جماعت اسلامی کے ارکان ہیں وہ بھی چھوٹی چھوٹی برادر یوں اور ذاتوں سے تعلق رکھنے والے یا دفتروں کے چپڑاسی۔کوئی قابل ذکر آدمی جماعت اسلامی کے ساتھ نہیں“۔آئین کی پندرھویں ترمیم یا ایک اور طمانچہ بیدار ڈائجسٹ اگست 1990 ، صفحہ 9 ضیاء الحق شہید نمبر ) ہر بنیادی اختلاف سے محفوظ فرقوں نے اپنے اپنے فقہی حقوق کے لیے حکومتوں سے بلکہ خدا تعالیٰ سے کیسے کیسے تحفظات لے رکھے ہیں اس کا اندازہ مجھے جناب نواز شریف صاحب وزیر اعظم پاکستان کے اعلان کردہ نفاذ شریعت بل“ سے ہوا۔جناب اصغر علی گھر ال نے نفاذ شریعت مذہبی پیشوائیت اور روشن خیالی کے نام سے قارئین نوائے وقت کو اس طرح سے جھنجھوڑا ہے۔نئے نفاذ شریعت بل یا دستور میں پندرھویں ترمیم کی رو سے آرٹیکل 2 - الف کے بعد حسب ذیل نیا آرٹیکل شامل کر دیا گیا ہے۔2- ب قرآن وسنت کی برتری۔(اس کے جزو 1 میں مندرج ہے 1 قرآن پاک اور پیغمبر پاک صلی آی پیہم کی سنت پاکستان کا اعلیٰ ترین قانون ہوگا۔تشریح : کسی مسلمان فرقے کے پرسنل لاء پر اس شق کے اطلاق میں قرآن وسنت کی عبادت کا مفہوم وہی ہو گا۔جو اس فرقے کی طرف سے توضیح شدہ قرآن وسنت کا ہے۔میں اپنی گذارشات کو دستور کے مجوزہ آرٹیکل 2-ب کی شق 1 تک محدود رکھوں گا۔بڑے ادب کے ساتھ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ یہ تشریح یعنی قرآن وسنت کے احکام کی تشریح کا یہ طریق کار قرآن پاک کی کس آیت ، حکم یا احکام سے ماخوذ ہے۔یہ تشریح Pre-Suppose کرتی ہے کہ اسلام کچھ فرقوں پر مشتمل ہے یا فرقے۔اسلام کا جزولاینفک ہیں۔اور ان سب کے اپنے اپنے پرسنل لاز ہیں یعنی ان کی اپنی اپنی ذیلی شریعتیں ہیں جو یقینی طور پر ایک دوسرے سے مختلف بلکہ اکثر متضاد ہیں۔اسی لئے ان کے درمیان جھگڑے رہتے ہیں اس تشریح کی رو سے احکام خداوندی کو پابند کیا جا رہا ہے کہ جب وہ ایک فرقے کے ہاں جائیں تو ان کا ایک مفہوم ہو اور دوسرے فرقے کے ہاں جا کر قرآن وسنت کے احکام کا مفہوم اس کی ذیلی شریعت کے مطابق دوسرا ہو۔یوں نعوذ باللہ قرآن وسنت کے احکام کو فرقوں کی ذیلی شریعتوں کے تابع کر دیا گیا ہے“۔امت کو کاٹ ڈالا کافر بنا بنا کر اسلام ہے فقیہو بہت ممنون احسان تمہارا