کافر کون؟ — Page 167
167 آیا۔کسی طرح سے اتحاد کی کوئی صورت نہ بن پارہی تھی آخر گو جرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ایک اہل حدیث عالم دین نے اہل تشیع اور اہل حدیث بھائیوں کے درمیان اتحاد کی راہ نکال لی۔ختم بنوت ہی وحدت امت کی علامت“ کا نعرہ لگانے والوں کے لیے ایک دیدہ عبرت واقعہ۔اہل حدیث اور اہل تشیع کے درمیان اتحاد کا ایک ہی راستہ ہے ہم بخاری جلا دیتے ہیں تم اصول کافی۔اب تک جو کچھ کہا گیا ہے وہ قابل قدر ضرور ہے، قابل عمل نہیں۔اختلاف ختم کرنا ضروری ہے مگر اختلاف ختم کرنے کے لیے اسباب اختلاف کو مٹانا ہوگا۔فریقین کی جو کتب قابل اعتراض ہیں ان کی موجودگی اختلاف کی بھٹی کو تیز تر کر رہی ہے۔کیوں نہ ہم ان اسباب کو ہی ختم کر دیں۔اگر آپ صدق دل سے اتحاد چاہتے ہیں تو ان تمام روایات کو جلانا ہوگا جو ایک دوسرے کی دل آزاری کا سبب ہیں ہم ” بخاری کو آگ میں ڈالتے ہیں آپ اصول کافی کو نذر آتش کر دیں۔آپ اپنی فقہ صاف کریں ہم اپنی فقہ صاف کردیں گئے“۔( آتش کده ایران مصنفه اختر کشمیری صفحہ 109 ندیم بک ہاؤس لاہور 84 ) ( بحوالہ البریلوہ کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ مصنفہ بریلوں کا اہل مسجد سے اتحاد کی کوشش عبدالحکیم شرف قادری صفحه 81-82 اہل نجد کے ممتاز عالم دین شیخ عطیہ محمد سالم نے البریلویہ کتاب پر چھ صفحے کی تقدیم تحریر کی۔اسی تقدیم کے حوالے بریلوی عالم دین اور مسجدی علماء دین اتحاد کے کسی پلیٹ پر کھڑے ہیں کی ہلکی سی جھلک ہمیں یوں نظر آتی ہے۔اتحادامت کے نعرے صرف ایک فیشن کی حد تک ہیں عمل ممکن نہیں البریلویہ کا جواب کنندہ جناب عبدالحکیم شرف قادری صاحب فرماتے ہیں: آج کل یہ فیشن بن چکا ہے کہ الفاظ کی دنیا میں اتحاد اور یک جہتی کی تلقین کی جاتی ہے اور جیسے ہی کسی مخالف کا ذکر آیا ہر قسم کی احتیاط بالائے طاق رکھ کر شدید سے شدید تر فتویٰ صادر کر دیا جاتا ہے۔شیخ عطیہ محمد سالم مجدی نے البریلویۃ کی تقدیم میں بڑی خوبصورت خواہش کا اظہار کیا ہے وہ لکھتے ہیں۔وفي هذا لوقت الذي نحن احوج ما نكون الى وحدة الكلمة وتوحيد الصف اس حسین آرزو کے باوجود چھ صفحے کی تقدیم میں سواد اعظم اہل سنت و جماعت کے بارے میں جو تبصرہ کیا ہے وہ اس آرزو کے یکسر منافی اور قول وفعل کے تضاد کی واضح مثال ہے۔مقام حیرت ہے کہ وحدت و اتحاد کو ایک ضرورت قرار دینے والا دنیا بھر کے عامتہ المسلمین کو کس بے دردی سے کافر و مشرک قرار دے رہا ہے“۔