کافر کون؟ — Page 93
93 پہلی بات تو یہ کہ ان کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کی کوئی صراحت قرآن مجید میں موجود نہیں۔بلکہ جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہ اس سے انکار کرتے ہیں۔یہ وہی الفاظ ہیں جو کسی بھی شخص کی وفات کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔قرآن مجید نے پوری بات کی ہے اور کہا ہے کہ انی متوفيك و رافعك الى ميں تجھے وفات دوں گا۔پھر اپنی طرف اٹھا لے جاؤں گا۔اب ظاہر ہے کہ وفات کے بعد اپنی طرف اٹھا لے جاؤں گا کے الفاظ ان کے جسم کے لئے ہی ہو سکتے ہیں۔اور یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے کیونکہ یہود نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ ان کی توہین کریں گے تو بظاہر جو بائیبل سے معلوم ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ جب یہودا اسکر یوطی نے ان کی نشان دہی کی کہ وہ کوہ زیتون میں کہاں بیٹھے ہوئے ہیں اس وقت ان کو پکڑنے کے لئے ایک ہجوم حملہ آور ہوا۔اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو یہ سزا دی سیدنا مسیح علیہ السلام کو فرشتے لے گئے لیکن اس کی شبیہ بالکل سیدنا مسیح علیہ السلام کی سی ہو گئی۔اسی کو قرآن بیان کرتا ہے ولکن شبه لهم ان کو تو یہی خیال ہوا کہ انہوں نے معاذ اللہ حضرت مسیح علیہ السلام کو پھانسی چڑھایا ہے لیکن قرآن نے اعلان کیا کہ ما قتلوه وما صلبوہ نہ انہوں نے ان کو قتل کیا نہ صلیب دی۔تو اس وجہ سے جب قرآن نے متوفيك كے بعد جب یہ الفاظ استعمال کئے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عام قانون کے مطابق کسی اور کو تو ہاتھ نہیں لگانے دیئے گئے لیکن اللہ کے فرشتوں نے ان کو وفات دی اور اس کے بعد ان کو اٹھالے گئے۔اب فرض کر لیجئے کوئی شخص اس بات کو ایسے نہیں مانتا تو تب بھی یہ بات بالکل واضح ہے کہ جس بات کو وہ مان رہا ہے کہ زندہ اٹھالئے گئے اس کے لئے بھی قرآن میں کوئی صراحت موجود نہیں۔خالی ہے قرآن اس سے۔موجود ہی نہیں ہے۔اچھا بالکل یہی معاملہ ہے حدیث کا۔کوئی حدیث ایسی نہیں ہے جس میں کوئی اس طرح کی صراحت ہو یعنی رسول اللہ نے یہ بات بیان فرمائی ہو۔حدیث کے پورے ذخیرے کو دیکھ لیجئے اس میں کوئی ایسی بات نہیں“ یہ تقریر you tube پر ویڈیو کی شکل میں dr israr/javeed al ghamadi کے نام سے موجود ہے ) یقینا جب قرآن وحدیث جیسے مآخذ اسلام میں جس واقعہ کا ذکر نہ ہو تو اس کی تفاصیل میں وہی کچھ ہو گا جو مذکورہ واقعہ میں ہورہا ہے۔ہر کوئی اپنی طرف سے اپنی مرضی سے نئی تفصیل روایت کر رہا ہے اور یہی جانکاری میری دوسری مشکل بن گئی۔میں نہ مانوں مشکل نمبر 3 قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں زندہ جسم سمیت آسمانوں پر جانے کا تو ذکر نہیں مگر قرآن مجید کے ایک لفظ