کافر کون؟ — Page 483
483 کیا جاتا ہے کہ جو نو تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے باعث کشش ہے۔اس طریق پر نہ صرف غیر مسلم ہی ان کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں بلکہ ان مسلمانوں کے لیے بھی یہ تعلیمات کشش کا باعث ہیں جو مذہب سے بیگانہ ہیں یا عقلیات کی رو میں بہہ گئے ہیں ان کے مبلغین ان کے حملوں کا دفاع بھی کرتے ہیں جو عیسائی مناظرین نے اسلامی پر کئے“۔(مطبوعہ 1947 ء جلد 12 صفحہ 711-712 بحوالہ احمدیت صفحہ 409) $1956 1953ء کا ہنگامہ خیز سال گزر چکا ہے۔سینکڑوں احمدی گھر لوٹے اور جلائے جاچکے ہیں۔عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کا نعرہ یہ سال بخاری کا ہے ماضی کی گرد میں روپوش ہو چکا ہے۔ہم نے اس خونی سال سے 3 سال کی مسافت پر کھڑے ہو کر احمدیت کے افق کا طائرانہ جائزہ لیا تو احمدی ناکامیوں کی کہانی کی بجائے مخالفین کا ہی یہ اعتراف وصول پایا۔ہمارے پہاڑوں جیسے علماء اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود احمدیت سے ہار چکے ہیں بلکہ 1953ء کی خوں ریزی بھی ان کی رفتار روک نہیں سکی۔۔۔مولوی عبدالرحیم اشرف صاحب کا اعتراف مولوی عبدالرحیم صاحب جماعت احمدیہ کے چوٹی کے مخالفین میں شمارے ہوتے تھے مگر آخر کار ان کی ذاتی شرافت نے ان سے درج ذیل اعتراف کروا کر 1953ء کے سال کی تقدیر کا فیصلہ کر دیا۔” ہمارے بعض واجب الاحترام بزرگوں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں سے قادیانیت کا مقابلہ کیا لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ قادیانی جماعت پہلے زیادہ مستحکم اور وسیع ہوتی گئی مرزا صاحب کے بالمقابل جن لوگوں نے کام کیا ان میں اکثر تقومی تعلق باللہ، دیانت، خلوص علم اور اثر کے اعتبار سے پہاڑوں جیسی شخصیتیں رکھتے تھے۔سید نذیر حسین دہلوی ( وفات 1902 ء ) مولانا انور شاہ دیو بندی ( وفات 1932ء ) مولانا قاضی سید سلمان منصور پوری (وفات 1930 ء ) مولانا محمد حسین بٹالوی (وفات 1920 ء ) مولا نا عبدالجبار غزنوی (وفات 1913ء) مولانا ثناء اللہ امرتسری (وفات 1948ء) اور دوسرے اکابر رحمہم اللہ وغفرلبم کے بارے میں ہمارا حسن ظن یہی ہے کہ یہ بزرگ قادیانیت کی مخالفت میں مخلص تھے اور ان کا اثر ورسوخ بھی اتنا زیادہ تھا کہ مسلمانوں میں بہت کم ایسے اشخاص ہوئے ہیں جو ان کے ہم پایہ ہوں اگر چہ یہ الفاظ سننے اور پڑھنے والوں کے لیے تکلیف دہ ہونگے۔لیکن اس کے باوجود ہم اس تلخ نوائی پر مجبور ہیں کہ ان اکابر کی تمام کاوشوں کے باوجود قادنی جماعت میں اضافہ ہوا ہے متحدہ ہندوستان میں قادیانی بڑھتے رہے تقسیم کے بعد اس گروہ نے پاکستان میں نہ صرف پاؤں جمائے بلکہ جہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا وہاں ان کے کام کا یہ حال ہے کہ ایک طرف تو روس امریکہ سے سرکاری سطح پر آنے والے سائنس دان ربوہ آتے ہیں ( گزشتہ ہفتے روس اور امریکہ کے دو سائنس دان ربوہ وارد ہوئے) اور دوسری جانب 1953 ء کے