کافر کون؟

by Other Authors

Page 482 of 524

کافر کون؟ — Page 482

482 محمد حسین بٹالوی مولوی محمد حسین بٹالوی جنہوں نے سب سے پہلے نعرہ لگایا تھا کہ احمد بیت کو میں نے بلند کیا اور میں ہی تباہ کروں گا۔اپنی زندگی کے آخر پر افسوس کو ان الفاظ میں درج فرماتے ہیں: مرزا کا یہ حال ہے کہ اول تو اس کا کام مفت ہو جاتا ہے اور اس کے مرید ہی وکیل و مختار ہو جاتے ہیں اور اگر اس کو چندہ کی ضرورت پڑے تو ایسے مواقع پر اس کے ہاں اس قدر چندہ کی بھر مار ہو جاتی ہے کہ گو یا تجارتی سبیل نکل آتی ہے۔دس روپیہ کی ضرورت پیش آوے تو سور و پیہ جمع ہو جاتے ہیں۔اہل حدیث اس کے مقابل میں کھڑے ہوں تو پہلے معقول چندہ جمع کر لیں۔یہی امراب تک مانع نالش رہا ہے ورنہ اہل حدیث کبھی کے نالش کر دیتے“۔$1926 اشاعۃ السنۃ نمبر 4 جلد 2 صفحہ 110 گھر بیٹھ کر جماعت احمدیہ کو برا بھلا تو ہر کوئی کہہ سکتا مگر یورپ امریکہ میں تبلیغ اسلام صرف یہی لوگ کر رہے ہیں۔۔۔۔مولانا ظفر علی خاں روز نامہ زمیندار دسمبر 1926ء کی اشاعت میں جماعت احمدیہ کی کامیابیوں اور خدمت دین کی مشہور عام شہرت کو یوں قلمبند کرنے پر مجبور ہو گیا۔گھر بیٹھ کر احمد یوں کو برا بھلا کہہ لینا نہایت آسان ہے لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہی ایک جماعت ہے جس نے اپنے مبلغین انگلستان میں اور دیگر یورپین ممالک میں بھیج رکھے ہیں۔کیا ندوۃ العلماء، دیو بند فرنگی محل اور دوسرے علمی اور دینی مرکزوں سے یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ بھی تبلیغ واشاعت حق کی سعادت میں حصہ لیں“۔$1947 جماعت احمدیہ کا منظم پروگرام پوری دنیا کی مسلمان بنانے کے لیے یورپ تک پھیل گیا ہے۔دنیا کی مستند دستاویز انسائیکلو پیڈیا برٹین کا کا بھی اعتراف اس سال جماعت احمدیہ کی فتوحات برصغیر سے نکل کر یورپ اور امریکہ تک پھیل چکی تھیں اور اس میں اتنی شدت اور سرعت تھی کہ انسائیکلو پیڈیا برٹین کا بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گیا۔جماعت احمدیہ کا ایک وسیع تبلیغی نظام ہے۔نہ صرف ہندوستان میں بلکہ مغربی افریقہ ماریش اور جاوا میں بھی اس کے علاوہ برلن شکار گو اور لندن میں بھی اس کے تبلیغی مشن قائم ہیں ان کے مبلغین نے خاص کوشش کی ہے کہ یورپ کے لوگ اسلام قبول کریں اور اس میں انہیں معتد بہ کا میابی بھی ہوئی ہے۔ان کے لٹریچر میں اسلام کو اس شکل میں پیش