کافر کون؟ — Page 476
476 تمام املاک کو بحق سرکار ضبط کر لیا گیا۔1975ء جو قادیانی ہندو پاک سے جانا چاہتے تھے ان کے اجازت نامے منسوخ کر کے ان کو بندرگاہوں سے ہی واپس کر دیا گیا۔قادیانی حضرات اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دنیا کو فریب دینے کی جو نا پاک کوشش کر رہے تھے اب ان کا پردہ چاک ہو چکا ہے۔( عبرتناک انجام صفحہ 3 ناشر ادارہ مرکز یہ دعوۃ وارشاد چنیوٹ ) 1978 افریقہ میں تمام قادیانیوں نے تو بہ کر لی ہے۔منظور احمد چنیوٹی مولانا نے افریقہ کے دورے سے واپسی پر ہفت روزہ خدام الدین لاہور کو درج ذیل انٹر ویودیا: ”ہمارے پچھلے دورہ کے بعد تقریباً ہر شہر میں بہت سے قادیانیوں نے توبہ کی اور اسلام میں داخل ہوئے۔نزد لاگوس دار الحکومت نائیجریا میں جہاں ایک ہزار سے زیادہ قادیانی تھے اور ان کا اپنا ایک مرز واڑہ بھی تھا اب وہاں ایک بھی قادیانی نہیں رہا۔سب تو بہ کر گئے ہیں اور مرزا اڑھ بھی اب مسجد بن چکا ہے اس کا امام جو پہلے قادیانی اب مسلمان ہو چکا ہے۔اکر انز داباوان میں سو کے قریب قادیانی تو بہ کر چکے ہیں ابی کوٹہ میں بھی کئی قادیانی تو بہ کر چکے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان پارلیمنٹ اور رابطہ کی تاریخی قرارداد سے دنیا کے ہر حصے میں قادیانیوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ہے۔(رپورٹ دورہ یورپ و افریقہ صفحہ 7 تا 9 شائع کرده اداره مرکز یہ دعوت و ارشاد چنیوٹ) 1985۔قادیانیت ایک کینسر ہے، میری حکومت اس کو ختم کر دے گی۔۔۔۔جنرل ضیاء الحق قادیانیت کا وجود عالم اسلام کے لیے سرطان کی حیثیت رکھتا ہے اور حکومت پاکستان مختلف اقدامات کے ذریعہ اس بات کو یقینی بنارہی ہے کہ اس سرطان کا خاتمہ کر دیا جائے۔“ (روز نامه مشرق کوئٹہ 10 اگست 1985 ء ) اگر آرڈی نینس کی خلاف ورزی کی گئی تو حکومت انتہائی سختی کے ساتھ نمٹے گی انہوں نے تالیوں کی گونج میں اعلان کیا کہ ( قادیانیوں کے خلاف قانون کا غیظ و غضب انتہائی شدید ہو گا“۔( قادیانی ہماری نظر میں صفحہ 226) ”میرے والد محمد اکبر علی مرحوم کی ساری عمر سرکاری ملازمت کے ساتھ قادیانیوں کے خلاف جدو جہد کرتے ہوئے گزری۔وہ قادیانیوں کو انگریز کا کھڑا کیا ہوا فتنہ سمجھتے تھے میں ان کا بیٹا ہوں“۔(جنگ 18 نومبر 1983ء بحوالہ قادیانیت ہماری نظر میں صفحہ 225 ) آئیے اب سو سال پر پھیلی ان پیشگوئیوں کے برعکس بانی جماعت کی پیشگوئیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔