کافر کون؟ — Page 466
466 پہلا ایلیا تو ایک نبی تھا۔دوسرا ایلیا یعنی زکریا کا بیٹا بھی آبائی طور پر ایک مبشر تھا مگر تیسرا ایلیا (یعنی ڈوئی ) نبی ہے مبشر بھی ہے اور بادشاہ بھی۔“ (رسالہ انڈی پینڈنٹ 19 اپریل 1906 ء ) تو دوسری طرف اسلام کی تباہی اور بانی اسلام کے خلاف ہرزہ سائی شروع کر دی۔میں محمد ( سال شم السلام) کے جھوٹوں کو نفرت کے ساتھ تصور کرتا ہوں ( خاکش بدہن ) (26 مئی 1900 ء لیوز آف ہلینگ) زائن کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسانیت کے دامن سے اس گھناونے دھبے کو دھوڈالے۔یروشلم سے اس ملعون جھنڈے کو ہمیں اتارنا ہو گا۔ہلال اور صلیب کے درمیان ایک جنگ عظیم قریب نظر آ رہی ہے۔“ (15 اگست 1903 لیوز آف ہیلنگ ) دنیا کے مغربی کنارے پر برجمان الیگزنڈر ڈوئی جب مندرجہ بالا خرافات میں مصروف تھا تو عین اس وقت دور مشرقی کنارے پر ہندوستان کے دور افتادہ قصبہ قادیان میں ایک برگزیدہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی اس دعوئی میں مصروف تھے کہ حضرت مسیح ناصری وفات پاچکے ہیں۔اور امت میں جس شخص نے آنا ہے وہ میں ہی ہوں خدا تعالیٰ نے مجھے آنحضرت صلی اینم کی غلامی میں مثیل مسیح بنایا ہے اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ میرے ذریعہ برپاہوگی۔دوانتہا ئیں۔دو پیغمبر اور دو نمائندے دنیا میں موجود تھے۔پریس کے جدید نظام نے جلد ہی دونوں کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا۔حضرت مرزا صاحب نے اپنے آپ کو سچا مسیح و مہدی سمجھتے ہوئے اسلام کے نمائندے کے طور پر پیش کرتے ہوئے اسلام کی حقانیت کے حوالے سے اُسے دعوت مباہلہ دے دی۔پہلے پہل تو ڈوئی نے اس طرف بالکل توجہ نہ دی لیکن جب حضرت مرزا صاحب کے مباہلہ کے اشتہار بار بار امریکن اخبارات کی زنیت بننے لگے تو اس نے 27 دسمبر 1902ء کو اپنے اخبار میں یوں لب کشائی کی: ”ہندوستان میں ایک بیوقوف شخص ہے جو محمدی مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ مجھے بار بار کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کشمیر میں مدفون ہیں جہاں ان کا مقبرہ دیکھا جا سکتا ہے۔وہ یہ نہیں کہتا کہ اس نے خود وہ دیکھا ہے مگر بیچارہ دیوانہ اور جاہل شخص پھر بھی یہ بہتان لگاتا ہے کہ حضرت مسیح ہندوستان میں فوت ہوئے۔“ پھر مزید وضاحت یوں کرتا ہے: لوگ بعض دفعہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم نے اس بات کا یا اُس بات کا جواب دے دیا ہے کہ نہیں۔جواب کیا