کافر کون؟ — Page 447
447 محمد مظہر علی خاں صاحب رامپوری اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ” میرے مکان کے پیچھے جو کہ شاہ آباد گیٹ میں واقع ہے محلہ کا قبرستان تھا۔صبح مجھ کو اطلاع ملی کہ قبرستان میں لاتعداد مخلوق جمع ہے اور قاسم علی کی لاش جو اس کے اعزہ رات کے وقت چپکے سے مسلمانوں کے اس قبرستان میں دفن کر گئے تھے لوگوں نے نکال باہر پھینکی ہے۔میں فوراً اس ہجوم میں جا داخل ہوا اور بخدا جو کچھ میں نے دیکھا وہ نا قابل بیان ہے۔لاش اوندھی پڑی تھی منہ کعبہ سے پھر کر مشرق کی طرف ہو گیا تھا۔کفن اتار پھینکنے کے باعث متوفی کے جسم کا ہر عضوعریاں تھا اور لوگ شور مچارہے تھے کہ اس نجس لاش کو ہمارے قبرستان سے باہر پھینک دو۔جائے وقوعہ پر مرحوم کے پسماندگان میں سے کوئی بھی پرسان حال نہیں تھا۔لیفٹینٹ کرنل محمد ضمیر کی خوشامدانہ التجا پر نواب صاحب نے فوج اور پولیس کو صورت حال پر قابو پانے کے لیے موقع پر بھیجا کو توال شہر خان عبد الرحمن اور سپریٹنڈنٹ پولیس خان بہادر اکرام حسین نے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر لاش دوبارہ دفن کرانے پر مجبور کیا۔لیکن اس جابرانہ حکم کی خبر شہر کے ہر کو نہ میں بجلی کی طرح پہنچ گئی۔اور غازیان اسلام مسلح ہو کر مذہب و دین کی حفاظت کے لئے جائے وقوعہ پر آگئے۔حکومت چونکہ ایک مقتدر آدمی کی ذاتی عزت کی حفاظت کے لیے عوام کا قتل و غارت گوارا نہیں کر سکتی تھی اس لیے پولیس نے لاش کو کفن میں لپیٹ کر خفیہ طور پر شہر سے باہر بھنگیوں کے قبرستان میں دفنا دیا۔چونکہ مسلمان بہت مشتعل اور مضطرب تھے اس لیے انہوں نے بھنگیوں کو اس بات کی اطلاع کر دی۔اور بھنگیوں نے اس متعفن لاش کا وہی حشر کیا جو پہلے ( مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں ) ہو چکا تھا۔پولیس نے یہاں بھی دست درازی کرنی چاہی لیکن بھنگیوں نے شہر بھر میں ہڑتال کر دینے کی دھمکی دی بالآخر سپریٹنڈنٹ پولیس اور کوتوال شہر کی بر وقت مداخلت سے لاش کو دریائے کوسی کے ویران میدان میں دفن کرنے کی ہدایات کی گئیں۔سپاہی جو لاش کے تعفن اور بوجھ سے پریشان ہو چکے تھے۔کچھ دور تک لاش کو اٹھا کر لے جاسکے اور شام ہو جانے کے باعث اسے دریائے کوسی کے کنارے صرف ریت کے نیچے چھپا کر واپس آگئے۔دوسرے روز صبح کو شہر میں یہ خبر اڑ گئی کہ قاسم علی کی لاش گیدڑوں نے باہر نکال کر گوشت کھا لیا۔اور ڈھانچہ باہر پڑا ہوا ہے۔یہ سن کر شہر کے ہزاروں لوگ اس منظر کو دیکھنے کے لیے جوق در جوق جمع ہو گئے میں بھی موقعہ پر جا پہنچا۔لیکن میری آنکھیں اس آخری منظر کی تاب نہ لا سکیں اور میں ایک پھریری لیکر ایک شخص کی آڑ میں ہو گیا قاسم علی کی لاش کھلے میدان میں ریت پر پڑی تھی اسے گیدڑوں نے باہر نکال لیا تھا اور وہ جسم کا گوشت مکمل طور پر نہیں کھا سکتے تھے منہ اور گھٹنوں پر گوشت ہنوز موجود تھا۔باقی جسم سفید ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا آنکھوں کی بجائے دھنسے ہوئے غار اور منہ پر داڑھی کے اکثر بال ایک درد ناک منظر پیش کر رہے تھے آخر کار پولیس نے لاش مزدوروں سے