کافر کون؟

by Other Authors

Page 441 of 524

کافر کون؟ — Page 441

441 کرتے وقت وہ کہ چکا تھا کہ تم کبھی نہیں مرو گے اس لیے یہ پہلا انسان جل جانے کے باوجود زندہ ہے۔5۔خدا نے زمین پر نگا ڈالی اور اسے خاکستر دیکھ کر شرمندہ ہوا اور درخت اگا دیئے۔6۔روشنی اور روحیں“ نامی باب میں حضرت جبرائیل اور اسرافیل اور عزرائیل کی تصاویر کشی۔اور بہت کچھ خرافات استغفر الله من الخرافات كلها- انجام کی نوعیت کلمہ نہ مٹانے والے ” کافر اپنے جرم کی سزا بھگتنے سے بھی پہلے 9 سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ر ہے تاہم بعد میں عمر قید کی سزا کا پروانہ لیکر شیخو پورہ جیل میں واصل ہو چکے ہیں۔جبکہ اس دنیا کے پروردگار کا نام اللہ کی بجائے زیم اور وحدہ لاشریک کی بجائے تین خدا بتانے اور پڑھانے والے کو کسی نے فٹے منہ بھی نہ کہا۔ہے نہ مزیدار پہیلی ؟ اقتدار کے نشے میں مست حکمرانوں کو تو شائد اس پاکستانی پہیلی کا انجام سوچنے کی فرصت نہ ہوگی لیکن حضرت ثعبان ثوری کا قول اس موقعہ پر بہت یاد آ رہا ہے آپ نے فرمایا تھا: ”مبارک ہیں وہ لوگ جن کے پاس نصیحت کرنے کے لیے الفاظ نہیں اعمال ہوتے ہیں۔“ اور حضرت مولانا رومی کا قول کہ: جس کے افعال شیطان اور درندوں جیسے ہوتے ہیں کریم لوگوں کے متعلق اس کو بدگمانی ہوتی ہے۔“ آج جبکہ ڈاکٹر قدیر صاحب کا خاندان بھی انصاف کے حصول کے لیے ایوان عدل کی زنجیریں ہلانے میں مصروف ہے تو ایسے میں مجھے اسیر راه مولا مکرم عبد القدیر صاحب مبلغ سلسلہ کا چہرہ جناب چوہدری محمد علی صاحب کے اس شعر کی سرا پا تصویر بنا نظر آتا ہے: تو فیصلہ تو کر مگر اتنا نہ مسکرا کہ ہے اک اور فیصلہ اس فیصلے کے بعد قرآن مجید فرقان حمید کے تراجم کے عظیم سنہری تاج کو سروں پر سجائے ہوئے، جانے والے ہنستے کھیلتے زنجیروں اور بیڑیوں کو چومتے ہوئے زندان کے اندھیروں میں گم ہو گئے ، چلے گئے لیکن اے چشم فلک اور اے میرے ہمسفر ساتھیو ہم سب کے لیے یہ پیغام چھوڑ گئے ہیں: یه صحن درویش ، یہ لالہ وگل، ہونے دو جو ویراں ہوتے ہیں تخریب جنوں کے پردے میں تعمیر کے ساماں ہوتے ہیں منڈلائے ہوئے جب ہر جانب طوفاں ہی طوفاں ہوتے ہیں دیوانے کچھ آگے بڑھتے ہیں اور دست وگریباں ہوتے ہیں