کافر کون؟ — Page 436
436 96 ء کا سال پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم سال ہے۔جب پہلی دفعہ تعزیرات پاکستان دفعہ 298C ،295C، 2954 کے تحت سکہ بند کافروں کے ساتھ ساتھ ایک سکہ بند مسلم پر بھی انہیں دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا۔اشارے اور وضاحت کے لیے ہم دونوں کے جرائم بتا دیتے ہیں سزا کیا ہوئی ہوگی؟ اور مقدمہ کتنی سرعت کے ساتھ درج ہو کر قانون کس طرح حرکت میں آیا ہو گا؟ یہ آپ سوچ کر بتائیے۔پہلی کچھ یوں ہے۔تو فیصلہ تو کر مگر اتنا نہ مسکرا کہ ہے اک اور فیصلہ اس فیصلے کے بعد داماد ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے مربی عبد القدیر تک دو مختلف الزام۔۔۔۔یکساں F۔IR دو مختلف انجام۔۔۔دو مختلف سزا ئیں یوں تو پاکستان کی ارض پاک میں صاحب اقتدار اور مصاحبین اقتدار۔طاقت کے نشے میں چور ہو کر بڑے بڑے عجیب و غریب کام سر انجام دے چکے ہیں اور دیتے جارہے ہیں۔کسی ڈکٹیٹر کا منہ زور بیٹا ایک ہی گھر سے دو دو بیٹیوں کو اغوا کر لیتا ہے تو دوسرا جابر حاکم اپنے مخالف سیاستدان پر بھینس چوری کا مقدمہ ڈال کر اسے حوالات کی ہوا کھلا دیتا ہے۔ایک حاکم وقت جو خود اپنے لیے تو شراب پینے کی دعویداری رکھتا ہے مگر دوسروں کے لیے مفتی اسلام بن جاتا ہے اور لاکھوں معصوم کلمہ گووں کو کا فرقرار دینے کا سرکاری فتویٰ جاری کر دیتا ہے۔یہاں ایک طرف مولوی بٹن دبا کر جنت میں جانے کی نئی نویلی اصطلاح ایجاد کرتا ہے تو دوسری طرف اقتدار کا ایک بھوکا ڈکٹیٹر، جو 90 دن کو 11 سال میں بدلتے بدلتے ، اقتدار کے نشے میں اتنا عجیب زود حس واقع ہو جاتا ہے کہ اسے آذان اور السلام علیکم کی آواز ہی بری لگنے لگ جاتی ہے۔وہ مساجد پر لکھے کلمہ کے الفاظ کو تڑوانے کے آرڈر دیتا ہے اور درود پڑھنے والوں کو قید با مشقت کے پروانوں سے نواز ناشروع کر دیتا ہے۔دوستو! جس قوم کی اذان کی آواز سے دل آزاری ہونے لگ جائے۔جو کلمہ لکھنے والوں کو مجرم قرار دے دیں۔جو اعتکاف پر بیٹھنے کے لیئے چھٹی مانگنے والوں کو کال کوٹھڑیوں میں بند کر دیں تو پھر اس قوم کے اساتذہ کون سی دینیات پڑھانا شروع کر دیتے ہیں؟ اور ان کو کون سی کہانیاں پسندیدہ ہو جاتی ہیں؟ اقتدار کے نشے میں مست حکمرانوں کی دینیات کیا ہو جاتی ہے؟ ان کے لیے قانون کیسے خدمتگار بن کر کھڑا ہوتا ہے؟ اور وقت کے حسین کے لیئے قاضی عبدالشریح کیا کیا فیصلے کرتے ہیں؟ آئیے شرق پور سے اسلام آباد تک پھیلی اس کہانی کو سنتے ہیں۔حمل نوعیت حیثیت ملزمان