کافر کون؟

by Other Authors

Page 414 of 524

کافر کون؟ — Page 414

414 کہ شراب بھی نجس ہے یا نہیں؟ شراب پینے ، پلانے، بیچنے اور تیار کرنے سے تو کسی کے جذبات مجروح نہیں ہوئے کیوں؟ کہیں شراکت داری تو نہیں ہے۔تمہیں کہورند ومحتسب میں ہے آج شب کون فرق ایسا یہ آ کے بیٹھے ہیں میکدے میں وہ اُٹھ کے آئے ہیں مکیدے سے 4۔اُدھر دوبارہ مسجد کی پیشانی پر لکھ دیا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں 6 قادیانیوں کا مکروہ جرم کلمہ طیبہ پڑھ کر اور لکھ کر علماء کے دلی جذبات سے کھیلنے کی گھناؤنی سازش 295C اور 298 کا قانون حرکت میں گرفتار کر کے جیل میں بند۔موت کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔وطن عزیز میں علماء کے دل کتنے نازک اور حساس ہونے کے ساتھ ساتھ دین کے لیے کتنی غیرت رکھتے ہیں اس کا علم مجھے سمبڑیال کے علماء حضرات کی طرف سے کٹوائی جانے والی F۔IR پڑھ کر ہوا۔8 جولائی 1991ء کو تھا نہ سمبڑیال ضلع سیالکوٹ میں مولوی صاحبزادہ سلمان منیر صاحب کی تحریری درخواست پر مندرجہ ذیل احمدی مسلمانوں کے خلاف ایک مقدمہ زیر دفعات 298C ،295C، تعزیرات پاکستان درج کیا گیا ان کا جرم مسجد احمدیہ پر کلمہ طیبہ تحریر کرنا بتایا گیا۔چنانچہ مکرم خواجہ محمد امین صاحب، مکرم ملک عنایت اللہ صاحب ، مکرم حمید الحسن شاہ صاحب، مکرم محمد یوسف صاحب ، مکرم ملک نثار احمد صاحب، مکرم محمود احمد صاحب کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے مولوی سلمان منیر صاحب نے پولیس کو اپنی درخواست میں لکھا کہ اس سے قبل علاقہ مجسٹریٹ نے اس مسجد اور کئی قادیانیوں کے گھروں سے کلمہ طیبہ کے متبرک الفاظ کو مٹا کر محفوظ کیا تھا اور دوبارہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے سلسلہ میں مقدمات درج تھے جو ابھی تک زیر سماعت ہیں اس کے باوجود قادیانیوں نے اپنی مسجد پر دیدہ دانستہ طور پر کلمہ طیبہ لکھ کر قانون کی صریح خلاف ورزی کی ہے اور تمام مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔اور اس طرح توہین رسالت کے مرتکب ہوتے ہیں۔چنانچہ قانون فوری حرکت میں آیا گھناؤنی سازش اور علماء کے مجروح ہوتے ہوئے جذبات کی حفاظت کے لیے ان ناعاقبت اندیشوں کو جیل کی کال کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا ہے۔یادر ہے 295C کے تحت ان مجرموں کو سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ادھر وطن عزیز کی کوئی گلی کوئی کو چہ ایسا نہیں جہاں آج کل جوانہ کھیلا جارہا ہو