کافر کون؟

by Other Authors

Page 413 of 524

کافر کون؟ — Page 413

413 نے چودہ سو سال پہلے اسے حرام قرار دیا۔قرآن حکیم میں اسے ام الخبائث کہا گیا ہے، اس لحاظ سے شراب کے استعمال کے علاوہ اس کی خرید و فروخت بھی ممنوع اور حرام قرار پائی لیکن وزیر اعظم صاحبہ نے اللہ اور اس کے رسول مقبول کے احکامات کی سراسر نفی کرتے ہوئے شراب کی فروخت کے اجازت نامے اور لائسنس جاری کر دیئے ہیں۔میں یہ کہنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتا کہ وزیر اعظم بینظیر نے اپنے اعلانات کے ذریعے نہ صرف اسلام کی توہین کی ہے، اسلامی اقدار کی توہین کی ہے بلکہ بارہ کروڑ مسلمانوں کی توہین کی ہے اور سچ پوچھیں تو یہ اعلان اسلام کے نام پر حاصل کردہ ملک پاکستان کو شرابیوں اور بدقماش لوگوں کا ملک بنانے کے مترادف ہے۔یہ امریکہ کے نیو ورلڈ آرڈر حصہ ہے جس کے تحت شراب نوشی ، بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دینے کی خفیہ اور کھلے عام کوششیں کی جارہی ہے۔ان مذموم مساعی کا ایک نمونہ قاہرہ کی نام نہاد بہبود آبادی کا نفرنس بھی تھی جس میں محترمہ نے سیاسی ودینی جماعتوں اور تنظیموں کی تمام تر مخالفت کے باوجود شرکت کی تھی۔اب انہوں نے شراب کی دکانوں اور ہوٹلوں میں فروخت کیلئے اجازت نامے اور فیکٹری کیلئے لائسنس کے اجرا کے ذریعے مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔محترمہ جس تیزی سے اسلامی اقدار کو مٹانے پر تلی ہوئی ہیں اور جس تیزی سے دین دشمن اقدامات کر رہی ہیں اسی تیزی سے شدت کے ساتھ پوری حزب اختلاف اور دینی وسیاسی جماعتیں اور تنظیمیں اور اسلامی نظام کے دعویدار افراد اور ادارے ان کا مقابلہ کرنے کیلئے سرگرم عمل کیوں نہیں دکھائی دیتے۔مجھے تو یہ نظر آرہا ہے کہ : حمیت نام تھی جس کے گھر سے گئی وزیر اعظم بینظیر کے علاوہ ان کے وزراء خصوصاً خالد احمد خان کھرل اور جنرل نصیر اللہ بابر نے ٹی وی، ناچ گانے اور کلچر کے نام پر بے ہودگی پر اعتراضات کے بارے میں جو نا مناسب بیانات دیئے ہماری قوم انہیں بھی شیر ما در کی طرح پی گئی۔قوم میں برائیوں کے خلاف جو قوت مدافعت تھی شاید وہ ایڈز کی نذر ہوگئی ہے۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ محترمہ کے حالیہ اعلانات کے تحت شراب خانوں کو عام اور حصول کو ہر فرد کیلئے ممکن بنانے کے بعد حدود آرڈینس اور اس میں تجویز کردہ سزائیں اور متعلقہ عدالتیں بھی ایک مذاق بن کر رہ جائیں گی۔قارئین کرام کو یاد ہوگا ) محترمہ بینظیر بھٹو نے حدود آرڈنینس کے تحت تجویز کردہ تعزیرات کے ضمن میں اسلام کی سزاؤں کو سنگین اور ظالمانہ قرار دیا تھا۔تبصرہ خبریں اسلام آباد 15 مئی 1995 اشاعت خاص ) قرآن مجید کا سرائیکی زبان میں ترجمہ کرنے والوں کے لیے سزائے موت کے مطالبے کرنے والو ذرا یہ تو بتاؤ