کافر کون؟ — Page 398
398 جبکہ سیدھی سی بات یہ ہے کہ مسلم کا لغوی مطلب ہے سر جھکا دینے والا یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے سر جھکا دینے والا۔سورۃ البقرہ آیت 112 کے بموجب ”وہ جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکا دے اور یہ جھکنا خوبصورت انداز میں ہو“۔کا فرگر س : حضرت علی حضرت امام حسین، امام ابوحنیفہ، امام محمد بن ادریس شافعی ، امام احمد بن جنبل ،غزالی، رازی، ابن رشد ، بوعلی سینا، منصور حلاج، عمر خیام، ابن عربی ، شیخ شہاب الدین، سرمد شاہ ولی اللہ ، شاہ اسماعیل شہید، سید احمد شہید، سرسید احمد خاں ، مولانا شبلی ،مولانا حالی، ڈپٹی نذیر احمد ،مولانا عبدالباری فرنگی محل ، خواجہ حسن نظامی ، مولاناظفر علی خاں ، مولانا عبید اللہ سندھی ، مولانا قاسم نانوتوی ، مولانا رشید احمد گنگوہی ، مولانا اشرف علی تھانوی ، مولانامحمود الحق ، مولانا حسین احمد مدنی مولانا شبیر احد عثمانی، قائد اعظم ، علامہ اقبال، مولانا احمدعلی ، سید عطا اللہ شاہ بخاری میں کیا خصوصیت مشترک ہے؟ ج: ان سب پر کفر کا فتویٰ لگ چکا ہے۔بقول شورش کاشمیری : زباں بگڑی قلم بگڑا روش بگڑی چلین بگڑا خود اپنے ہاتھ سے کافر گروں کا پیرہن بگڑا چلا تکفیر کا جھکڑ کہ شرق و غرب کانپ اٹھے اٹھی دشنام کی آندھی مزاج اہرمن بگڑا کیونکہ دینی راہنما، مشائخ، مذہبی مبلغین، علماء و فضلاء اور مولوی و ملا۔مسلمان کی تعریف پر متفق نہیں اس لیے کسی کو بھی کافر، زندیق، بے دین ہلحد، دھریہ قرار دے دینا کتنا سہل ہو جاتا ہے اس کا اندازہ فتوی سازی کی تاریخ سے ہو جاتا ہے جو طویل ہونے کے ساتھ ساتھ اس بنا پر عبرت انگیز بھی ہے کہ عالم اسلام کی کیسی کیسی عہد ساز شخصیات کو کا فرقرار دے دیا گیا۔اس امر کو فراموش کر کے کہ کسی کو کافر قرار دینے کا مطلب مسلمانوں کے اس کے ساتھ ہر نوع کے سماجی رشتوں کے انقطاع کے ساتھ ساتھ اس کا اپنی بیوی سے نکاح بھی فسخ ہو جاتا ہے اور از روئے شریعت حاکم وقت پر اس کا قتل لازم ہو جاتا ہے۔بقول ذوق : واجب القتل اس نے ٹھہرایا جبکہ حالی کے بقول : امت کو چھانٹ ڈالا کافر بنا بنا کر آیتوں سے روایتوں ނ مجھے اسلام ہے فقهيو ! ممنوں بہت تمہارا