کافر کون؟ — Page 368
368 تفسیر : ضال کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے اس کے ایک معنی گمراہی کے ہیں دوسرے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص راستہ نہ جانتا ہو اور ایک جگہ حیران کھڑا ہو کہ مختلف راستے جو سامنے ہیں ان میں سے کدھر جاؤں۔ایک معنی کھوئے ہوئے کے ہیں۔اس درخت کو بھی عربی میں ضالہ کہتے ہیں جو صحرا میں اکیلا کھڑا ہو ضائع ہونے پر بھی ضلال کا لفظ بولا جاتا ہے۔غفلت میں بھی ضلال کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ان مختلف معنوں میں سے پہلے معنی یہاں چسپاں نہیں ہوتے۔البتہ باقی معنی کسی نہ کسی طور پر یہاں مراد ہو سکتے ہیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ ایک ایک اعتبار سے سب مراد ہوں۔(تفہیم القرآن) صحابہ کرام کے بارے میں نظریات غزوہ تبوک میں آپ اور صحابہ سے بھی لغزشیں ہوئیں سورۃ توبہ آیت 117 لقد تاب على النبي والمهجرين والانصار الذين اتبعوه في ساعة العسرة كا ترجمه اور تفسیر مودودی صاحب نے فرمایا ہے۔ترجمہ: اللہ نے معاف کر دیا نبی کو اور ان مہاجرین اور انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت نبی کا ساتھ دیا۔تفسیر: یعنی غزوہ تبوک کے سلسلہ میں جو چھوٹی چھوٹی لغزشیں نبی سلایا یتیم اور آپ کے صحابہ سے ہو ئیں ان سب کو ان اعلی خدمات کا لحاظ کرتے ہوئے معاف فرما دیا نبی سلان میں سے جواغرشیں ہوئی تھیں ان کا ذکر سورہ تو بہ آیت 43 میں گزر چکا ہے یعنی کہ جن لوگوں نے استطاعت رکھنے کے باوجود جنگ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت مانگی تھی آپ نے ان کو اجازت دے دی تھی۔ازواج مطہرات کے بارے میں نظریات (تفہیم القرآن ) اے ازواج مطہرات تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔کج ہو گئے ہیں سازشوں اور کاروائیوں سے باز آ جاؤ۔نعوذ بالله من ذلک سوره تحریم آیت 5 ان تتوباً إلى الله فقد صَغَت قلوبكما وان تظهر علیہ کا ترجمہ کرتے ہوئے علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب فرماتے ہیں: اگر تم دونوں اسی طرح کی کاروائیاں اور مظاہرے کرتی رہیں، عکسی قرآن مجید مترجم محشی مولانا اشرف علی تھانوی صاحب بھی قریب قریب یہی ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اور اس طرح اگر پیغمبر کے مقابلے میں تم دونوں کا روائیاں کرتی ہیں جبکہ شاہ رفیع الد ین صاحب فرماتے ہیں :