کافر کون؟

by Other Authors

Page 349 of 524

کافر کون؟ — Page 349

349 اس وقت مسلمانوں میں ان (احمدیوں) کو بیدین و کافر کہنے والے تو بہت ہیں لیکن مجھے تو آج تک ان مدعیان اسلام کی جماعتوں میں کوئی جماعت ایسی نظر نہیں آئی جو اپنی پاکیزہ۔معاشرت۔اپنے اسلامی رکھ رکھاؤ۔اپنی تاب مقارمت اور خوئے صبر و استقامت میں احمدیوں کی خاک پا کو بھی پہنچتے ہوں“۔(ماہنانہ نگار لکھنو ماہ جولائی 1960 ، صفحہ 117 تا 119 ) مشکل نمبر 42 اگر مولانا ارشد القادری کی رپورٹ کے مطابق جماعت احمدیہ نے 77ء میں چودہ زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ کیا اور مصنف مذہب کا سرطان کے مطابق 1995ء میں 50 زبانوں میں (اب 70۔ناقل ) قرآن مجید کا ترجمہ کر کے اس پوری دنیا میں پھیلا چکے ہیں۔(صفحہ 174 مذہب کا سرطان ) اور پوری دنیا میں قرآن اور اسلام اور مساجد تعمیر کر رہے ہیں اور پھر بھی میرے علمائے دین عصر نے انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا اور ان کے تراجم قرآن کرنے والوں کو جیلوں کی کال کوٹھریوں میں بند کر دیا اور ان کی تفاسیر پر پابندی لگادی اور انکی قرآنی اشاعت یا قرآنی تبلیغ پر ملکی ریاست کے قانون میں مستقل دفعہ 298C بنا کر ان کے لیے جیل کے 3 سال کا پروانہ جاری فرما دیا تو اس کی وجہ ان کی تفاسیر کے وہ محاسن ہونگے جو قرآن واسلام کے خلاف ہونگے۔یا وہ انداز تفسیر نہ ہوگا جو ہمارے مروجہ علماء دین فرما رہے ہیں۔یا ان کی تفسیر خدا۔رسول۔قرآن اور فرشتوں پر گمراہ کن الزامات لگانے والی ہوگی۔یا ان کی تفسیر انبیاء کی تنقیص شان کرنے والی ہوگی۔یا ان کی تفسیر اپنے پیر فقیر حضرات کو خدائی میں شامل کرنے جیسے عقیدوں پر مشتمل ہوگی۔لیکن دکھ اور اضطراب اور ظلم کی انتہاء تو تب ہوئی جب میں نے یہ جانا کہ قادیانی تفسیر کی بجائے خود ہمارے علمائے کرام کی تفاسیر مندرجہ بالا محاسن پر مشتمل ہیں۔ہمارا ہر فرقہ دوسرے فرقے کی تفسیر کو خلاف اسلام ، اور خلاف عقل قرار دے کر اس کو بند کر دینے بلکہ اس کو جلا دینے کے احکامات جاری فرما رہا ہے۔دوسری زبانوں میں تراجم کرنے کا مشکل کام ہم نے گوارا ہی نہیں کیا اور جو ایک دو تفاسیر علماء کرام نے لکھی ہیں اس پر ساون بادھوں کی بارش کی طرح الزامات کی بارش ہو رہی ہے۔دیگر اقوام عالم میں تبلیغ اسلام سے پہلو تہی اور اس کے لیے تراجم قرآن مجید سے بے بہر گی اور علمائے حاضر کی