کافر کون؟

by Other Authors

Page 336 of 524

کافر کون؟ — Page 336

336 میجر مست گل کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے نوائے وقت رقم طراز ہے۔”بی بی سی نے جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے امیر غلام محمد بٹ کا ایک انٹرویو نشر کیا ہے جس میں انہوں نے دیگر مجاہد جماعتوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اس انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے سانحہ چرار شریف کے ہیر و میجر مست گل نے کہا ہے کہ جماعت کی طرف سے مجاہدین سے لاتعلقی کا اظہار ایک شرمناک فعل ہے انہوں نے کہا کہ جہاد کشمیر کے نام پر جماعت اسلامی نے کروڑوں روپے کمائے ہیں جنہیں جماعت کے لیڈر ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور ان پیسوں سے وہ قیمتی گاڑیوں اور بنگلوں کے مالک بن گئے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر جماعت تھک گئی ہے تو کشمیر کا جہاد پھر بھی جاری رہے گا۔“ (نوائے وقت 15 دسمبر 97ء) بنوری ٹاؤن سے منسلک اور مشہور عالم دین رعایت اللہ فاروقی صاحب پاکستان کے دوسرے مستند علماء دین ( بشمول سمیع الحق صاحب ) کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔آپ نے جمعہ 6 جون 1997ء کے پاکستان اخبار میں ” علماء الریال“ کے نام سے ایک جنگی سائز کا مضمون لکھا ہے کچھ اقتباس ملاحظہ ہوں۔بے حس طبقہ افسوس صد افسوس کہ بے حسی کا یہ بہیمانہ مظاہرہ میں نے طبقہ علماء میں دیکھا ہے۔جب بھی کسی عالم کو بتایا گیا کہ یہود و نصاری کو ویلکم کہنے والے سعودی حکمرانوں نے پاکستان کے بائیں علماء کو بلا کسی جرم کے گرفتار کر لیا ہے تو سننے والے علماء کے کچھ دیر کے لیے کان بھی کھڑے ہوئے اور حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے بھی لگے لیکن اس کے بعد وہ اپنی مسجدوں اپنے مدرسوں اور اپنی خانقاہوں میں مشغول ہو گئے اور حد تو یہ ہے کہ مولانا عبد الحق مرحوم کے فرزند شیخ الحدیث نے مفتی محمود کے صاحبزادے پر تنقید کی ہے کہ وہ ان مسبحون علماء کے حق میں سعودی حکمرانوں کے خلاف بات کیوں کرتے ہیں اور بڑے اطمینان سے یہاں تک کہہ گئے کہ ابھی تو یہ بھی واضح نہیں کہ گرفتار ہونے والے علماء ہیں بھی کہ نہیں سچ بات تو یہ ہے کہ یہ بات کہی تو مولانا سمیع الحق نے ہے اور شرم سے پانی پانی در دمند علماء ہورہے ہیں“۔عمرے یا ریالوں میں چندہ بٹورنے اور ذاتی کوٹھیاں بنانے کے راستے۔وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا پاکستان علماء کی اپنی رفقاء کی گرفتاری پر بے حسی کی بنیادی وجہ عمرے کا ویزہ ہے اور عمرے سے ان کی دلچسپی