کافر کون؟ — Page 311
311 ذرا غور کیجیے کہ یہ امت تو قبر پرستی سے بڑھ کر اب تصویر پرستی اور بت پرستی تک جا پہنچی ہے اور پھر تصویر اور بت بھی وہ کہ جو شرک کی آخر حد کے ساتھ ساتھ فحاشی کو بھی اپنے دامن میں۔تقدس کے پردے میں چھپائے ہوئے ہے اور یہ ناٹک کسی اجڈ دنیا میں نہیں۔بلکہ ملک کے ایک بڑے اور مہذب شہر کے عین وسط میں رچایا جارہا ہے۔تصوف وطریقت کے پردے میں فحاشی بیچ چوراہے کے ناچ رہی ہے۔شرم و حیا اپنا دامن بچا کر یہاں سے بھاگ رہی ہے۔(صفحہ 82) پھر آپ بریلوی مجذوب ولیوں کے بارے میں لکھتے ہیں : ”ہمارے یہاں قلندر۔قطب۔غوث دا تا ابدال اور مجذوب ولی بنائے گئے اور مجذوبوں کے کپڑے اتار دیئے گئے تو یہی چیز ہندوؤں میں ہمیں ملتی ہے ان کے ہاں پیشاب پینا تو معمولی بات یہ تو اپنا پاخانہ گندگی اور غلاظت تک کھا جاتے ہیں ایسے ننگے سادھو ہندوؤں کے ہاں متبرک ترین لوگ ہوتے ہیں۔قارئین کرام ! یہی کچھ درباروں پر ولی بننے کے لیے ہوتا ہے۔اور اگر وہ تنگے ہ کر ڈ گمبر سادھوکہلواتے ہیں تو یہ ننگے رہ کر مجذوب و لی کہلاتے ہیں“۔مولا نا حمزہ صاحب مکلی کے مشہور قبرستان میں واقع عظیم درگاہ حضرت پیرٹن شاہ کے دربار کا حال یوں بیان کرتے ہیں: میں جب اس دربار پر پہنچا تو حضرت لٹن شاہ کی قبر سے سیمنٹ کا ایک گولہ نکلا ہوا تھا جو دربار کے باہر کئی میٹر تک چلا گیا تھا۔میں نے گدی نشین سے پوچھا تو وہ کہنے لگا ” یہی تو حضرت کی کرامت ہے۔حضرت لٹن شاہ صاحب دریائے سندھ کے کنارے بیٹھ جاتے تھے اور دوسرے کنارے پر رہنے والے مرید لٹن شاہ کے پل پر سے چل کر اس کے پاس آجاتے تھے۔اسی کی یاد میں یہ سیمنٹ کا گولہ ہے جو حضرت کی قبر سے نکالا گیا ہے۔اب بتلائیے ہندو کے برہاد ہوتا اور نام نہاد مسلمانوں کے حضرت لٹن شاہ ولی کے واقعات میں کیا فرق ہے۔غرض اگر ہندو انسان کی شرمگاہ کی پوجا کرتا ہے تو قبروں پر گرنے والا بھی اسی راستے پر چل نکلا ہے اور یہ راستہ وہ ہے جو شرک کے ساتھ ساتھ فحاشی کی دلدل میں بھی دھنساتا ہے یہی وجہ ہے کہ شرک کے اڈے فحاشی کے بھی اڈے ہیں۔چونکہ ان دنوں یعنی شرک اور زنا کا ایک باہمی گہرا تعلق ہے اس لیے جہاں شرک کا اڈہ ہوتا ہے وہاں زنا کا کاروبار بھی چلتا ہے۔(مذہبی وسیاسی باوے صفحہ 101 ) خلاصتہ یہ کہ بریلوی بھائی مندرجہ ذیل مشہور درگاہوں پر درج ذیل کی اشیاء کی پرستش بھی کرتے ہیں : حضرت با یزید بسطامی دربار واقع چٹا گانگ میں پلیتر وں کو مقدس سمجھ کر خوراک ڈالی جاتی ہے۔