کافر کون؟

by Other Authors

Page 309 of 524

کافر کون؟ — Page 309

309 اور ہوس زر کی یہ صورت حال بار بار مسلمانوں کے شرمناک کردار کا مظہر ثابت ہو چکی ہے کفر سازی کے مذکورہ فتوے ایک بار نہیں بار بار صادر ہوتے ہیں عام مسلمان جسے فقہی مسائل سے اس حد تک آگہی نہیں جس حد تک مذکور کفر ساز علماء کرام کو ہے وہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے میں بھی وہی عمیق مطالعہ و مشاہدہ اور تجدید و تحقیق تو کارفرما نہیں جوسنی سے شیعہ اور شیعہ سے سنی کو دائرہ اسلام سے خارج کرانے کا موجب بن رہی ہے؟ اور اگر عام مسلمان کے نزدیک شیعہ بھی مسلمان ہے اور سنی بھی مسلمان ہے تو کیا وہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کو درست تسلیم کرے گا؟ بالخصوص اس وقت تک جب وہ علماء کے ذاتی کردار کے بارے میں پوری طرح باخبر ہے“۔(روز نامہ وفاق 15 اکتوبر 93ء) آیئے دیکھتے ہیں انفرادی تصویر کشی کے بعد اجتماعی محاذ پر ہم مسلمان اپنے جیسے دوسرے مسلمانوں کی کیا تصویر بناتے ہیں۔اہل تشیع کی تصویر سپاہ صحابہ کی نظر میں سپاہ صحابہ کے جرنیل اعظم طارق نے اڈیالہ جیل سے ایک پیغام بھیجا جسے سپاہ صحابہ کے ترجمان خلافت راشدہ نے ٹائٹیل پر جلی حروف سے شائع کیا۔آپ نے اہل تشیع اور برادر ملک ایران کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرمایا: اس وقت عالم اسلام کو رافضیت سے بڑی کسی اسلام دشمن قوت سے زیادہ خطرہ نہیں ہے۔کیونکہ یہ وہ فتنہ ہے جس نے مسلمانوں کو اندرونی طور پر وہ کاری ضربیں لگائی ہیں کہ تاریخ اسلام کا مطالعہ رکھنے والا ہر فرد جانتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس دین کی حفاظت کا ذمہ خود نہ لیا ہوتا تو شاید آج اسلام اور مسلمانوں کا وجود ان زخموں اور نا قابل برداشت حملوں کی تاب نہ لاتا ہوا دنیا سے معدوم ہو گیا ہوتا۔ہماری بد قسمتی کہیے یا خوش قسمتی کہ آج ایک مرتبہ پھر یہی ازلی دشمن نئے روپ اور جدید سازشوں سے مسلح ہو کر عالم اسلام کی پشت پر چھرا گھونپنے کو تیار کھڑا ہے اس نے اپنے خون خوار چہرہ پر ہمدردی اور غمخواری کا ماسک چڑھا کر زبان سے پر فریب نعرے لگاتے ہوئے مکاری و عیاری کا وہ خوشنما جال بچھا دیا ہے کہ جس پر بھولے پن میں اللہ ورسول کے نام لیوا اڑ اڑ کر قطار اندر قطار بیٹھتے چلے جارہے ہیں۔امریکہ دشمنی اور اسرائیل مردہ باد کے جھوٹے نعروں کے ذریعہ وہ امریکہ واسرائیل سے زخم خوردہ مسلم ممالک کو یہ دھوکہ دینے میں مصروف ہے کہ اس وقت وہی اسلام اور مسلمانوں کا سب سے بڑا خیر خواہ ہے حالانکہ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی بھیٹر یا کتے کے منہ سے شکار چھین کر محبت و پیار کے نام پر خود اس شکار پر دانت صاف کرنا چاہتا ہو۔عجیب بات تو یہ ہے کہ وہ ملک جس کے دارالحکومت میں مسلمانوں کو مسجد بنانے اور اس ملک کے اعلیٰ عہدوں