کافر کون؟ — Page 256
256 عیسائی پادریوں کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدائی کی دلیل اور آپ سلیم کا جواب قالا ان لم يكن عيسى ولد الله فمن ابوه وخاصموه جميعاً في عيسى فقال لهما النبى دول العالم الستم تعلمون انه لا يكون ولد الا ويشبه اباه قالوا بلى قال ألستم تعلمون إن ربنا حي لا يموت وان عيسى اتی علیه الفناء - قالوا بلى قال ألستم تعلمون ان ربنا قيم على كل شيء يحفظه ويرزقه“ ترجمہ: اُن دونوں پادریوں نے کہا کہ اگر عیسی علیہ السلام اللہ کا بیٹا نہیں تو بتا و اس کا باپ کون ہے؟ اور پھر انہوں نے خوب جھگڑا کیا۔اس پر آپ صلی ہی ہم نے ان سے کہا کہ تم جانتے ہو ناں کہ ہر بچہ اپنے باپ سے مشابہہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا ہاں یہ درست ہے۔اس پر آپ مصلی نئی ایم نے فرمایا کہ پھر تم یہ بھی جانتے ہو کہ ہمارا رب توحی و قیوم ہے اور عیسی تو فوت ہو چکے یعنی پھر تو وہ اللہ سے مشابہہ نہ ہوئے۔میں اس مناظرے کو بھی تحریف کر کے یوں پڑھوں گا اب یہی کتاب جب 1990 میں شائع کی گئی تو اس حوالے میں تحریف کر کے اس کو یوں کر دیا گیا: " قالا ان لم يكن عيسى ولد الله فمن ابوه وخاصموه جميعاً في عيسى فقال لهما النبي والهلال العالم الستم تعلمون انه لا يكون ولد الا ويشبه اباه قالوا بلى قال ألستم تعلمون ان ربنا قيم على كل شيء يحفظه ويرزقه ( اسباب النزول صفحہ 44 زیر تفسیر سوره آل عمران مطبعہ العلمی) بریلویوں کے شیخ الحدیث مولوی عبد المصطفیٰ اعظمی صاحب نے " عجائب القرآن مع غرائب القرآن" کے نام سے قرآنی واقعات کو کتابی شکل میں رقم فرمایا ہے جسے دعوت اسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیہ نے کتابی شکل دے کر مکتبہ المدینہ باب المدینہ کراچی سے شائع فرمایا ہے۔آپ صفحہ 76 پر عیسائیوں کا مباہلہ سے فرار کا عنوان لگا کر فخر یہ اعلان فرماتے ہیں کہ میں اب اس واقعہ کو بالکل نئے انداز سے یوں پڑھوں گا لکھوں گا اور روایت کروں گا۔نجران (یمن) کے نصرانیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ آیا یہ چودہ آدمیوں کی جماعت تھی جو سب کے سب نجران کے اشراف تھے اور اس وفد کی قیادت کرنے والے تین اشخاص تھے آپ نے نہایت کریمانہ لہجے میں ن سے گفتگو فرمائی اور حسب ذیل مکالمہ ہوا: نبی صل لله السالم تم لوگ اسلام قبول کر کے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بن جاؤ۔ابوحارثہ (عیسائی): ہم لوگ پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بن چکے ہیں۔۔