کافر کون؟ — Page 254
254 اول تو ان کا قول سند کے لحاظ سے نا قابل اعتبار ہے دوسرا اگر درست تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی۔مرزا قادیانی اس کا کسی صورت میں بھی مصداق نہیں بن سکتا۔“ (رساله خسوف و کسوف صفحه 15 و صفحه 2 اداره مرکز یہ دعوت وارشاد ) میں مولوی صاحب کی بات ہی مان لیتا مگر مشکل یہ ہے کہ پھر جن جن کو بے شرم ، بے حیا، دجال، کذاب کہنا پڑے گا ان میں حضرت شاہ رفیع الدین، حضرت خواجہ غلام فرید ، حضرت مجدد الف ثانی ، حضرت علامہ حجر، مولانا نواب صدیق حسن اور بہت سے بزرگان جن کا ذکر ہم پہلے کر آئے ہیں کو بھی شامل کرنا پڑے گا۔کیا خیال ہے 1400 سالہ متفقہ فیصلہ مان لیں یا مولوی چنیوٹی صاحب جیسے فاتحین ربوہ کی؟ 3۔آج تک ایسا ہوتا ہوگا حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔فرمان نبوی آنحضور صلہ اسلام کا ارشاد مبارک ہے کہ: ” لوكان عيسى حيّاً ما وَسِعَة الا اتباعى“ ترجمہ: اگر عیسی " زندہ ہوتا تو اسے میری پیروی کے بغیر کوئی چارہ نہ ہوتا۔( شرح فقہ اکبر صفحه 100 مصری ) حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں موعود شخص کو صیح کا نام دینا اس مصلحت کی بناء پر ہے کہ آخری زمانہ میں عیسائیت کا غلبہ ہو گا جس کو وہ توڑے گا۔حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں: اس زمانے کے مجدد کا نام مسیح موعود رکھنا اس مصلحت پر مبنی معلوم ہوتا ہے کہ اس مجدد کا عظیم الشان کام عیسائیت کا غلبہ توڑنا اور ان کے حملوں کو دفع کرنا کیونکہ سب سے بڑی آفت اس زمانہ میں جو بغیر تائید الہی دور نہیں ہو سکتی ہے عیسائیوں کے فلسفیانہ حملے اور مذہبی نکتہ چینیاں ہیں جن کے دور کرنے کے لیے ضروری تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور آئے۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 341 مطبوعہ لندن 1984 ) عیسی فوت ہو چکے ہیں اور ان کا نام پا کر اس دنیا میں آیا ہوں مرزا صاحب کا اعلان سچی بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو موعود آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں اور یہ بھی پکی بات ہے کہ اسلام کی زندگی عیسی کے مرنے میں ہے۔“