کافر کون؟ — Page 177
177 بھائیوں کے درج ذیل عقائد عین اسلامی اور مومنانہ قبول کئے جاتے ہیں یا اور بھی جو چاہیں اب عقیدہ رکھیں ہمیں سرو کار نہیں یادر ہے کسی ایسے عقیدہ کی بناء پر آئندہ انہیں مندرجہ بالا القابات سے یاد کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی اور نہ فتاوی دینے کی۔دیوبندی عقائد، اعمال اور افعال ماضی میں دوسرے علماء کی نظر میں لہ میں اللہ کا سور ہوں۔۔۔فرمان سید عطاء اللہ شاہ بخاری ریل گاڑی میں سفر کر رہے تھے ایک اسٹیشن پر ایک ادھیڑ عمر وضع دار شخص اس ڈبے میں داخل ہوا۔۔۔گاڑی چل پڑی تعارف کے لئے شاہ صاحب نے کہا کیا اسم گرامی ہے؟ اس نے کہا میرا نام کلب حسین ہے (حسین کا کتا ) اب اس نے پوچھا جناب کا اسم گرامی؟ شاہ صاحب نے فوراً کہا خنزیر اللہ ( میں اللہ کا سوار ہوں “۔( بخاری کی باتیں ص 172 ) عوام کا عقیدہ بھی گدھے کے عضو۔۔۔۔۔۔جیسا ہے۔فرمان اشرف علی تھانوی عوام کا اعتقاد ہے ہی کیا چیز۔عوام کے عقیدوں کی بالکل ایسی حالت ہے کہ جیسے گدھے کا عضو۔بڑھے تو بڑھتا ہی جائے۔اور جب غائب ہو تو بالکل پتہ ہی نہیں چلے۔واقعی عجیب مثال ہے“۔ید اشرف علی تھانوی صاحب کے پاؤں دھو کر پینے سے جنت ملتی ہے و اللہ العظیم مولانا تھانوی کے پاؤں دھو کر پینا نجات اخروی کا سبب ہے“۔اندرا گاندھی میری بیٹی ہے۔فرمان سید عطاء اللہ شاہ بخاری ”بھائی پنڈت نہرو اور اندرا گاندھی کو میر اسلام کہنا کہ میری بیٹی ہے۔( ملفوظات حکیم الامت ج 3 ص 62) ( تذكرة الرشيد جلد نمبر 1 ص 113 ( کتاب سید عطاء اللہ شاہ بخاری سوانح نگار شورش کا شمیری ص 298) قرآن کا ترجمہ پڑھنا عوام کے لئے خطرناک ہے۔۔۔فرمان اشرف علی تھانوی میں اس واقعہ کو دیکھ کر فتوی دیتا ہوں کہ تم کو ترجمہ دیکھنا حرام ہے۔جس طرح طب کی کتابیں مفید تو ضرور ہیں مگر طبیب کے لئے مفید ہیں مریض کے لئے مفید نہیں۔ایسے ہی قرآن شریف کے ترجمہ کا مطالعہ علوم دینیہ کے واقف کے لئے تو بہت مفید مگر جاہل کے لئے مضر۔