کافر کون؟ — Page 161
161 جدون اور جنرل سیکرٹری ساجد اعوان نے کرتے ہوئے ڈی آئی جی پولیس ہزارہ ڈویثرن اور کمشنر ہزارہ ڈویژن سے مطالبہ کیا کہ اس سرکاری اہل کار کی پشت پر شر پسند عناصر کو بے نقاب کریں اور ایس ایچ او تھانہ صدر مانسہرہ کو فوی طور پر معطل کریں۔وقار گل اور ساجد اعوان نے واضح کیا کہ ایس۔ایچ۔اوکو ایسی تعلیمات دینے کا کوئی حق نہیں ہے جس سے کسی بھی طرح قادیانیوں کی خیر خواہی کا کوئی بھی پہلو نکلتا ہو۔انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او تھانہ صدر مانسہرہ کا ی بخش اقدام مسلم امہ کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے جسے کسی بھی طور برداشت نہیں کیا جا سکے گا۔(روز نامه شمال ایبٹ آباد 11 مئی 1997 صفحہ (1) واقعی یہ قدم بڑ انخش اور امت مسلمہ کے زخموں پر نمک پاشی کرنے والا ایک انتہائی گھناؤنا اور مکروہ فعل ہے۔اگر ایس۔ایچ۔او کے کہنے سے بائیکاٹ ٹوٹ جاتا تو یقینا یہ اس صدی کا سب سے ”غلیظ فعل ہوتا۔اور امت مسلمہ کو ایک اہم اور نیک کام سے روکنے کی جسارت ہوتی۔دوستو! محافظین ختم نبوت کی یہ شاندار تبلیغ “ ہی میری 32 ویں مشکل بن گیا ہے۔محافظین ختم نبوت اور مشرکین مکہ مشکل نمبر 33 دا تا ضلع مانسہرہ میں ہونے والی اسلامی خدمت اور ائیں۔ایچ۔او مانسہرہ کے نخش اور امت مسلمہ کے زخموں پر نمک چھڑ کنے والے واقعہ کے بارے میں غور کر رہا تھا کہ ان عظیم کارناموں کا سرا‘ ماضی میں کہاں اور کن لوگوں سے جوڑوں تاریخ وسیرت کی کتب کے حوالے سے جو نام ذہن کی سکرین پر آرہے تھے قلم اس کے اظہار سے کانپ رہی تھی۔میں اسی گومگو کی حالت میں تھا کہ مولانا تاج محمد صاحب بھی ناظم اعلی تحفظ ختم نبوت کو ئٹہ نے میری مشکل حل کر دی اور ایک فخریہ اعلان 21 دسمبر 1985ء کو مجسٹریٹ درجہ اول کوئٹہ کی عدالت میں داخل کیا۔ہم محافظین ختم نبوت احمدیوں کے ساتھ وہی سلوک کر رہے جو مشرکین مکہ مسلمانوں سے کرتے تھے۔۔۔جناب ناظم اعلیٰ صاحب ختم نبوت کوئٹہ ائر پورٹ پر آئے ہوئے دو احمدیوں کو جنہوں نے سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ہوئے تھے تحفظ ختم نبوت کی درخواست پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا بعد میں جب مقدمہ شروع ہوا تو جناب ناظم اعلیٰ تحفظ ختم نبوت نے درج