کافر کون؟

by Other Authors

Page 144 of 524

کافر کون؟ — Page 144

144 کاظمی صاحب لکھتے ہیں : ”ہمارے آقائے نامدار صلینی ای ایام سے لے کر حضرت آدم علیہ السلام تک کسی نبی کی نبوت میں دوسرے نبی کی نبوت کے بالمقابل کوئی فرق نہیں پایا جاتا نہ کسی نبی کا وصف نبوت کسی دوسرے نبی کے وصف سے کم و بیش ہو سکتا ہے۔اب دیکھیے قارئین کرام! ( ختم نبوت اور تحذیر الناس ص 383 ) جتنے بریلوی لوگ اور اکابرین امت ہم پیش کر چکے ہیں کہ نبی محترم مایلی یہ تم کو اصل اور حقیقی نبی سمجھتے ہیں تو فرق کے تمہارے بریلوی قائل ہو گئے اب آپ اپنے دام میں خود پھنس گئے ہیں۔پتہ نہیں بریلویت کے کفر پر ایک کتاب تبسم صاحب کب لکھیں گے۔اعتراض نمبر 8 غلام نصیر الدین سیالوی لکھتا ہے : ” بعض حضرات یہ روایت پیش کرتے ہیں کہ سر کا رعلیہ السلام نے فرمایا: اني عند الله لمكتوب خاتم النبيين وآدم لمنجدل في طينته اس کے بارے میں گزارش ہے کہ اس حدیث سے استدلال درست نہیں کیونکہ اگر سر کا ر علیہ السلام کو سب سے پہلے نبوت ملی ہے تو آپ خاتم الانبیاء کیونکر ہو سکتے ہیں اگر سب سے پہلے سرکار علیہ السلام ختم نبوت سے متصف تھے۔تو پھر بعد میں ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء کیسے مبعوث ہوئے۔اس طرح تو پھر نانوتوی کا کلام ٹھیک ہو جائے گا کہ اگر بعد زمانہ نبوی کوئی اور نبی آجائے گا تو ختم نبوت میں کچھ فرق نہ آئے گا۔نیز دیگر انبیاء علیہم السلام صرف علم الہی میں نبی تھے بالفعل نہیں ہے۔تو پھر سر کا رعلیہ السلام ان سے آخری کیسے ہو گئے۔آخری نبی ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ سارے انبیاء علیہم السلام کے بعد نبوت کا اعطا ہوا اور اس ہستی کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔اس سے چند باتیں ثابت ہوئیں۔1۔اگر نبوت آپ کو سب سے پہلے مانامانی جائے تو آپ خاتم النبین نہیں ہو سکتے۔خاتم ( تحقیقات صفحہ 393 394 ) 2۔اگر آپ کو شروع سے ہی یعنی تخلیق آدم سے پہلے ہی سے ختم المرسلین مانا جائے تو پھر مولانا نانوتوی کا کلام درست ہو جائے گا۔بالفاظ دیگر اس کا اور مولانا نانوتوی کا نظریہ ایک جیسا ہوگا۔3۔آخری نبی کا مطلب یہ ہے آپ کو نبوت سب کے بعد ملے۔4 مفتی عبد المجید خان سعیدی نے غلام نصیر الدین سیالوی کے متعلق لکھا ہے کہ بیٹا اور اس کے توسط سے مولانا