کافر کون؟ — Page 491
491 ج: دعوت کا طریقہ کار اپنانا چاہیے تھا۔اس طرح قادیانیت آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی علماء اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے تو قادیانیت اسی طرح تحلیل ہو جاتی جس طرح بہائی اور اسماعیلی ختم ہو گئے۔ہمارے ہاں قادیانیوں کو مضبوط کیا گیا ہے۔تاہم اب جو قانون بن چکا ہے اس کی پیروی کرنی چاہیے ورنہ ریاست کا نظم باقی نہیں رہ سکے گا۔اگر ہم صحیح دین واضح کر دیں تو غلط نظریات اپنی موت آپ مر جائیں گے۔کسی کو گولی مار دینا دعوت نہیں ہے۔س: آئین میں ترمیم کے بعد آرڈی نینس جاری کیے گئے اور شعائر اسلامی کی ممانعت کر دی گئی کل کو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ (احمدی ناقل ) اپنا نام بھی تبدیل کرلیں؟ ج: یہ غلط طریق کار کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے انڈے بچے ہیں اگر سلیقے سے کام لیا جا تا تو نوبت یہاں تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔وہ ہمارے ملک کے شہری تھے مگر اس اقدام سے بیرون ملک پھیل گئے۔لندن میں مرکز قائم کرلیا۔سٹیلائیٹ کے ذریعہ پوری دنیا تک اپنا پیغام پہنچا رہے ہیں۔انہیں گھر سے باہر منتقل کر دیا گیا تو یہ نتائج برآمد ہوئے۔مصلحت کا تقاضا انہیں اپنے سے دور کرنا ہر گر نہیں تھا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس فتنہ سے نمٹنے کا غلط طریق کا را پنا یا گیا۔مناسب طریقہ اپنایا جاتا تو نتائج یقینا بہتر ہوتے۔اگست 1994ء (انٹرویو قربان انجم ہفتہ وار زندگی مدیر مجیب الرحمن شامی 7 تا 13 مئی 1994 ، صفحہ 40) قادیانیوں کا ایک امام ہے اور وہ ساری دنیا کو کنٹرول کر رہا ہے جبکہ ہمارے ہاں جس کے بھی ساتھ 2 آدمی ہیں وہ بھی عالمی مرکز کا صدر کہلا رہا ہے۔ماہنامہ الحق کی فریاد اسلامی انقلاب کے لئے ایک مرکز کی ضرورت ہے ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک اگست 1994، صفحہ 43-44 پر مندرجہ بالا عنوان کے تحت جناب محمد زاہد الحسینی آف اٹک کا مضمون شائع ہوا ہے۔جس میں ایک مرکزیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔عیسائیت کا روما 2000 سال سے ہے وغیرہ وغیرہ۔آگے جا کر لکھتے ہیں۔قادیانیت کے سر براہ کو ہم نے یہاں سے بعافیت نکال کر آج کی دنیا کے عظیم مرکز میں پہنچا دیا ہے۔وہ وہاں بیٹھ کر دُنیا بھر کے قادیانیوں کو کنٹرول کر رہا ہے۔مگر ہمارا کیا حال ہے ہم كُنتم خير أمة کی تلاوت تو کرتے ہیں مگر ہمارا کوئی مرکز نہیں۔جس کے ساتھ 2 آدمی ہیں وہ بھی عالمی مرکز کا صدر کہلا رہا ہے۔کیا یہ صورت حال خطر ناک ہیں۔پہلے وحدت مرکز پیدا کی جائے اس کے بعد انفرادی کاموں کی بجائے ایک عالمی امیر ہو۔جس امت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ صرف دو ہوں تب بھی ایک امام اور ایک مقتدی بن جائے۔اس ایک ارب افراد کا کوئی