کافر کون؟

by Other Authors

Page 448 of 524

کافر کون؟ — Page 448

448 اٹھوا کر دریائے کو سی کے سپر د کر دی اور اس طرح ایک امیر جماعت مرزائیہ کا انجام ہوا۔“ $1915 (روزنامہ زمیندار 21 جنوری 1951 ء ) 20 اگست 1915ء کو کنانورا ( مالا بار) کے ایک احمدی کے۔ایس۔احسن کا ایک چھوٹا بچہ فوت ہو گیا ریاست کے راجہ صاحب نے حکم دے دیا کہ چونکہ قاضی نے احمدیوں کے متعلق کفر کا فتویٰ دے دیا ہے اس لیے اس کی نعش مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتی۔چنانچہ وہ بچہ اس دن دفن نہ ہو سکا دوسرے دن بھی شام کے قریب مسلمانوں کے قبرستان سے 2 میل اس نعش کو دفن کیا گیا۔$1918 الفضل 19 اکتوبر 1915 صفحہ 6 احمدی عورت کی مدفون نعش اکھیڑ کر اُس کے شوہر کے دروازے پر لا کر پھینک دی۔اہل حدیث 6 دسمبر 1918 ء ) دسمبر 1918 ء میں کٹک (صوبہ بہار ) کے ایک احمدی دوست کی اہلیہ فوت ہو گئیں۔انہوں نے اسے قبرستان میں دفن کر دیا۔جب مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ ایک احمدی خاتون کی لاش ان کے قبرستان میں دفن کی گئی ہے تو انہوں نے قبر اکھیڑ کر اس لاش کو نکالا اور اس احمدی کے دروازے پر جا کر پھینک دیا۔مرزائیوں کی میت کی ہم خوب مٹی پلید کرتے ہیں۔اہل حدیث کی یکم فروری 1918ء کی فخر یہ رپورٹ ) اہل حدیث نے زیر عنوان ” کٹک میں قادیانیوں کی خاطر درج ذیل فخریہ رپورٹ آف خدمت اسلام پیش کی۔وہ جو کہاوت ہے کہ موئے پر سوڈرے سو وہ بھی یہاں واجب التعمیل ہو رہی ہے مرزائیوں کی میت کا مت پوچھئے۔شہر میں اگر کسی میت کی خبر پہنچ جاتی ہے تو عام قبرستانوں میں پہرہ بیٹھ جاتا ہے کسی کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے، کسی کے ہاتھ میں چھڑی ہے میت کی مٹی پلید ہو رہی ہے کہ کھوجتے تابوت نہیں ملتی۔بیل داروں کی طلب ہوتی تو وہ ٹکا سا جواب دے دیتے ہیں۔بانس اور لکڑی غائب ہو جاتی ہے۔دفن کے واسطے جگہ تلاش کرتے کرتے پھول کا زمانہ بھی گزر جاتا ہے۔ہر صورت سے ناامید ہو کر جب یہ ٹھان لیتے ہیں کہ چلو چپکے سے مکان کے اندر قبر کھود کر گاڑ دیں تو ہاتف غیبی افسران میونسپلٹی کو آگاہ کر دیتے ہیں اور وہ غرپ سے آموجود ہو کر خرمن امید پر کڑکتی بجلی گرا دیتے ہیں۔“ 66 $1924