کافر کون؟ — Page 446
446 (المنير 23 فروری 1956 صفحہ نمبر (10) سوسوا سوسالوں سے یہ احمدیت اور غیر احمدیت کا مقابلہ جاری ہے۔دونوں طرف کے گروہ اپنے اپنے انداز میں خدمت دین میں مصروف ہیں، اخلاق اور بدخلقی ، جنت نظیر معاشرہ اور جہنم نظیر معاشرہ ، عاشقان رسول کے افعال اور گمراہی میں بھٹکے ہوئے شیطان صفت اعمال میں فرق دیکھنا کوئی مشکل کام نہیں۔تعصب کی عینک اتار کر اگر حضرات جعفر طیار کی تقرر کو دوبارہ پڑھ لیا جائے تو ہر انبوہ میں سے منصور حلاج واضح نظر آجائیں گے کیونکہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کا قول ہے کہ: حق کا پر ستار بھی ذلیل نہیں ہوتا چاہے سارا زمانہ اس کے خلاف ہو جائے اور باطل کا پیرو کار کبھی عزت نہیں پا تا چاہے چاند اس کی پیشانی پر نکل آئے“ اور حضرت مولانا جلال الدین رومی کا یہ قول کتنا سچا ہے کہ : جس کے افعال شیطان اور درندوں جیسے ہوتے ہیں کریم لوگوں کے متعلق اسی کو بدگمانی ہوتی ہے“ حضرت جعفر کے حکم کے مطابق میں نے قادیانی معاشرہ کی ان خدمات کا جائزہ لیا جو بقول ان کے ” خدائی فرستادہ آنے کے بعد وہ ادا کر رہے ہیں اور پھر میں نے اپنے علماء کی ان خدمات کا جائزہ لیا جو قادیانی فرستادہ آنے کے بعد وہ ادا فرمارہے ہیں۔نتیجہ کتنا متضاد اور خوفناک ہوگا میرے وہم گمان میں بھی نہ تھا اور یہی حیرانی میری توبہ شکن مشکل بن گئی۔مشکل نمبر 47 ہماری گھناؤنی خدمات دفن شده احمدی نعش با ہر پھینک کر کفن اتار دیا۔دوسرے دن دفن، پھر کھیٹر پھینکا۔آخر دریا کے کنارے ریت میں دفن جہاں گیدڑوں نے نکال کر آدھا حصہ جسم کا کھالیا، سارے شہر کا بھر پور نظارہ ، قادیانی کا عبرتناک انجام اور ہماری شاندار خدمت اسلام غازیان اسلام کی خدمت پر مبنی رپورٹ۔$1946 46ء میں جماعت احمدیہ کے ایک فرد مکرم قاسم علی خاں اپنے وطن رام پور میں وفات پاگئے۔ان کی نعش سے شاندار مومنانہ سلوک جو حلفیہ رپورٹ روز نامہ زمیندار میں شائع ہوئی پیش ہے۔