کافر کون؟

by Other Authors

Page 348 of 524

کافر کون؟ — Page 348

348 حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔غیر مسلم ممالک میں قرآنی تراجم اور اسلام تبلیغ کا کام صرف اصول ” نفع رسانی کی وجہ سے قادیانیت کے بقال اور وجود کا باعث ہی نہیں ہے ظاہری حیثیت سے بھی اس کی وجہ سے قادیانیوں کی ساکھ ہے ایک عبرت انگیز واقعہ خود ہمارے سامنے وقوع پذیر ہوا 1954 میں جب جسٹس منیر انکوائری کورٹ میں علم دور اسلامی مسائل سے دل بہلا رہے تھے اور تمام مسلم جماعتیں قادیانیوں کو غیر مسلم ثابت کرنے کی جد و جہد میں مصروف تھیں۔قادیانی عین انھیں دنوں ڈچ اور بعض دوسری غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ قرآن مکمل کر چکے تھے اور انہوں نے انڈونیشیا کے صدر حکومت کے علاوہ گورنر جنرل پاکستان مسٹر غلام محمد اور جسٹس منیر کی خدمت میں یہ تراجم پیش کئے گویا وہ بزبان حال و قال کہہ رہے تھے کہ ہم ہیں وہ غیر مسلم اور خارج از ملت اسلامیہ جو اس وقت جبکہ آپ لوگوں ہمیں کا فرقرار دینے کے لیے پر تول رہے ہو غیر مسلمانوں کے سامنے قرآن اُن کی مادری زبان میں پیش کر رہے ہیں۔“ المنیر لائل پور 2 مارچ 1956 ء صفحہ 10 ) بقول مولانا ارشد القادری ایڈیٹر جام نور جمشید پور بھارت : یورپ، ایشیا، امریکہ اور افریقہ کے جن ملکوں میں قادیانی جماعت نے اپنے تبلیغی مشن قائم کئے ہیں۔جن کے ذریعہ وہ منظم طریقے پر بنام اسلام اپنے مذہب کا پیغام اجنبی دنیا تک پہنچارہے ہیں کام کی وسعت کا اندازہ لگانے کے لیے صرف ان کے نام پڑھیے: انگلینڈ۔امریکہ۔ماریشس - مشرقی افریقہ۔مغربی نائیجیریا۔انڈونیشیا۔ملایا۔اسپین۔سوئٹزر لینڈ۔ایران۔فلسطین۔ہالینڈ۔جرمنی۔جزائر غرب الہند سیلون۔بور نیو۔برما۔شام _لبنان_مسقط پولینڈ۔ہنگری۔البانیہ۔اٹلی۔قادیانی جماعت کے تبلیغی سرگرمیوں اور دائرہ عمل کی وسعتوں کا اندازہ لگانے کے لیے صرف اتنا معلوم کرنا کافی ہوگا کہ دنیا کی چودہ اجنبی زبانوں میں انہوں نے قرآن کریم کے تراجم شائع کئے ہیں ان کی فہرست ملاحظہ فرمائیے: انگریزی۔ڈچ۔جرمنی سواحیلی۔ہندی۔گور لکھی۔ملائی فمینسٹی۔انڈونیشین۔روسی۔فرانسیسی۔پرتگیزی۔اطالوی۔ہسپانوی “۔نوٹ : یہ 1977ء کی بات ہے۔بقول مولا نانیاز فتح پوری مدیر نگار لکھنو: ( جماعت اسلامی صفحہ 106 - 107 نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور )